چینی جنگی طیاروں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق اس فضائی مقابلے نے دنیا بھر کی افواج کو جدید ہتھیاروں، پائلٹ مہارت اور فضائی حکمت عملیوں کے حوالے سے بہت کچھ سکھایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ پاک بھارت فضائی جھڑپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی 4 روزہ اس جھڑپ میں پاکستانی فضائیہ نے چینی ساختہ J-10C لڑاکا طیارے استعمال کرتے ہوئے بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے، جن میں 3 جدید فرانسیسی رافیل بھی شامل تھے۔ اس کامیاب دفاعی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر چینی جنگی جہازوں، خاص طور پر J-10C کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے، اور ان کی مانگ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فضائی مقابلے نے دنیا بھر کی افواج کو جدید ہتھیاروں، پائلٹ مہارت اور فضائی حکمت عملیوں کے حوالے سے بہت کچھ سکھایا ہے۔
چین نے حال ہی میں مصر کے ساتھ 18 روزہ فضائی مشقیں بھی مکمل کی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی دلچسپی مزید بڑھی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چینی طیارے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بی بی سی کے سینیئر صحافی نے تبصرہ کیا کہ بھارت کو اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ پاکستان کی فضائی طاقت بھارت سے زیادہ ہے، حالانکہ بھارت نے اربوں ڈالر کے جدید ہتھیار خریدے تھے لیکن پھر بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ جھڑپ اب عالمی دفاعی اداروں اور تھنک ٹینکس کے لیے ایک کیس اسٹڈی بن چکی ہے، اور مستقبل کی جنگی منصوبہ بندی میں چینی ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔