پاک فوج نے چینی اسلحے کو چین سے بہتر استعمال کیا: بھارتی سابق جنرل کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پاک فوج نے چینی اسلحے کو چین سے بہتر استعمال کیا: بھارتی سابق جنرل کا اعتراف WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستانی مسلح افواج کے بھرپور اور مؤثر ردعمل نے دنیا بھر میں عسکری ماہرین کو متاثر کیا ہے۔ معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور سابق لیفٹیننٹ جنرل پی آر شنکر نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی افواج نے چینی جنگی ساز و سامان کا اتنا مؤثر اور شاندار استعمال کیا ہے کہ شاید چین خود بھی ایسا نہ کر پاتا۔
لیفٹیننٹ جنرل پی آر شنکر کا کہنا تھا، “میں پاکستان کی اس مہارت کے پیش نظر پاکستان کے بجائے چین سے لڑنا پسند کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے جس طرح آپریشن “بُنْيَانٌ مرصوص” میں چینی دفاعی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا، وہ قابلِ ستائش ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارتی جنرل کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف پروفیشنل ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال میں بھی عالمی معیار پر پوری اترتی ہیں۔
کامیاب آپریشن “بُنْيَانٌ مرصوص” کی تعریف اب بھارت کے سابقہ اعلیٰ عسکری افسران بھی کر رہے ہیں، جو پاکستان کی عسکری مہارت اور چینی سازوسامان کے بھرپور استعمال کا عملی اعتراف ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کے ترقی پانے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے تحریری احکامات سب نیوز پر عمران خان کی نااہلی پر احتجاج؛ ایک اور ملزم پر فرد جرم عائد افواجِ پاکستان کی تاریخی فتح پر دنیا بھر میں جشن کا سماں عمران خان کی جنید اکبر کو پی اے سی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت پاکستان سے جنگ بندی: بھارتی سیکریٹری خارجہ اور ان کی بیٹی تنقید کی زد میں حماس نے آخری زندہ امریکی قیدی کو رہا کرنے کا اعلان کردیا پاک بھارت کشیدگی ،امریکہ وزیر خارجہ کا جنگ بندی برقرار رکھنے پر زورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔