آپریشن بُنْيَان مَّرْصُوْص مکمل، پاکستان نے بھارت کیساتھ 22 اپریل سے 10مئی تک کے معرکےکو ’معرکہ حق‘ کا نام دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)معرکہ حق،آپریشن “بنیان مرصوص”: پاکستان کی تاریخ ساز جوابی کارروائی،پاکستان کی مسلح افواج نے 10 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب شروع کی گئی بزدلانہ جارحیت اور بے گناہ پاکستانی شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی شہادت کے جواب میں عظیم الشان آپریشن “بنیان مرصوص” کامیابی سے مکمل کیا۔
یہ کارروائی بھارتی حملوں کے خلاف انصاف، انتقام اور قومی وقار کی بحالی کا وعدہ تھا، جو الحمدللہ مسلح افواج نے پورا کر دکھایا۔
مسلح افواج نے اللہ رب العزت کی مدد، نصرت اور کرم کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ مظلوموں کو جواب دینا ایمان کا تقاضا ہے، اور ہم عاجزی سے سجدہ ریز ہیں کہ اللہ نے ہمیں اپنے عزم کو عمل میں بدلنے کی توفیق عطا فرمائی۔
ہم اپنے شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
ہم ہر اُس سپاہی، افسر، ہوا باز اور سیلر کے ممنون ہیں جن کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی سے یہ کامیابی ممکن ہوئی۔
ہم پاکستانی قوم کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے بھرپور حمایت اور دعا کے ذریعے ہمیں تقویت بخشی۔
پاکستانی نوجوانوں نے سائبر اور معلوماتی محاذ پر فرنٹ لائن سپاہیوں کا کردار ادا کیا۔
پاکستانی میڈیا نے بھارتی جھوٹ اور وار مونسٹرنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور ’’بنیان مرصوص‘‘ کی طرح سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوا۔
ہم اپنے سائنسدانوں اور انجینئرز کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کامیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کی۔
تمام سیاسی جماعتوں کی غیر مشروط حمایت اور یکجہتی نے دفاعِ وطن کے محاذ کو مزید مضبوط کیا۔
وزیر اعظم پاکستان اور اُن کی کابینہ کے فیصلے قومی تقدیر بدلنے کا باعث بنے۔
آپریشن “بنیان مرصوص” ایک مثالی ’’ٹری سروسز جوائنٹ آپریشن‘‘ تھا۔ فضائی، زمینی، بحری اور سائبر میدانوں میں مربوط کارروائیوں کے ذریعے دشمن کو فیصلہ کن ضربیں لگائی گئیں۔
پاکستان آرمی کے “فتح” سیریز میزائل (F1 اور F2)، پاک فضائیہ کے پریسیژن گائیڈڈ ہتھیار، جدید ترین گھومنے والے ڈرونز اور توپخانے نے بھارتی فوج کے 26 بڑے اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں وہ تمام تنصیبات شامل تھیں جہاں سے پاکستانی شہریوں پر حملے کیے گئے۔
اہم اہداف:
بھارتی ایئرفورس اور ایوی ایشن بیسز: سورت گڑھ، سرسا، بھُج، نالیا، آدم پور، بھٹنڈہ، برنالہ، حلواڑہ، آونتی پورہ، سری نگر، جموں، ادھم پور، ممون، امبالہ، پٹھان کوٹ – سب کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
بریہموس میزائل اسٹوریج (بیاس، نگروٹہ) تباہ کیے گئے۔
ایس-400 بیٹریز (آدم پور، بھُج) مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئیں۔
لاجسٹک و سپورٹ سائٹس، ملٹری ہیڈکوارٹرز (10 بریگیڈ، 80 بریگیڈ – نوشہرہ و کے جی ٹاپ) تباہ کیے گئے۔
بھارتی انٹیلیجنس یونٹس، پراکسی ٹریننگ سینٹرز (راجوری، نوشہرہ) مکمل طور پر ختم کر دیے گئے۔
ایل او سی کے پار، بھارتی توپخانے، پوسٹس اور لاجسٹک بیسز کو مسلسل نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ انہوں نے سفید جھنڈے اٹھا کر جنگ بندی کی درخواست کی۔
بھارتی ڈرونز کی فضائی خلاف ورزی کے جواب میں پاکستان کے مسلح ڈرونز دہلی سے گجرات تک بھارتی حساس علاقوں میں مسلسل پرواز کرتے رہے، جو پاکستان کی مہلک طویل فاصلے کی یو اے وی صلاحیت کا ثبوت تھا۔
پاک افواج نے بھارتی سائبر انفراسٹرکچر پر بھی مؤثر کارروائی کی، جو ان کے آپریشنز کی بنیاد تھے۔
اس جنگ میں پاکستان نے محدود ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا اور ردعمل میں غیر معمولی ضبط کا مظاہرہ کیا۔ تمام اہداف وہی تھے جو پاکستانی شہریوں کے قتلِ عام میں ملوث تھے۔
اس دوران بھارت کی طرف سے کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں اضافہ واضح کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کا براہِ راست سرغنہ ہے۔ لیکن پاک افواج نے مغربی محاذ پر بھی بیک وقت بھرپور انسداد دہشت گردی آپریشنز جاری رکھے۔
مارکۂ حق ایک قومی طاقت کی بہترین مثال بنی، جس میں عوام، افواج، حکومت، میڈیا، اور نوجوان سب یکجان ہو گئے۔
جب بھی پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا جائے گا، جواب فیصلہ کن اور ہمہ گیر ہوگا۔
“وہ چالیں چلتے ہیں، اور اللہ بھی چالیں چلتا ہے، اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے”
(سورۃ الانفال)
پاکستان زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد
مزیدپڑھیں:پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم سے ترکیہ کے سفیر کی ملاقات
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بنیان مرصوص پاکستان کی افواج نے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔