مودی کی وجہ سے پورا خطہ مسائل میں مبتلا ہے، مفتی منیب الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ مودی نے نفرت اور بغض کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے، مودی نے اس خطے کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے، اس کی وجہ سے پورا خطہ مسائل میں مبتلا ہے۔
کراچی میں مفتی منیب الرحمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے مسئلہ پیدا کیا، بھارت کے عوام کے ساتھ مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہینوں اور انکی ماؤں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں، مسلح افواج اور ہر جوان کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔
پاکستان کو 5 گنا بڑی فوج پر فتح مبین ملی، مفتی تقی عثمانیمعروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو 5 گنا بڑی فوج پر فتح مبین ملی ہے، ہم اللّٰہ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری لاج رکھی۔
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ بھارت ہر لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا زیادہ وسائل اور طاقت رکھتا ہے، اس کے باوجود ہماری افواج نے بھارت کو شکست دی، ہم تینوں افواج کی قیادت کی جرات اور قوت ایمانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو بھارتی عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ ایک مغرور اور گھمنڈی شخص مودی کی وجہ سے ہے جو پاکستان کو زیر کرنا چاہتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مفتی منیب الرحمان
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ