آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی سے پاکستانی معیشت کے لیے نئے دروازے کھل گئے، مگر کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی جانب سے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی پر نا صرف پاکستان دفاعی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا بلکہ اپنی دفاعی مصنوعات کی بھی دھاک پوری دنیا پر بٹھا دی ہے۔
پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں کو بھی پیغام پہنچا دیا ہے کہ ملک مضبوط ہاتھوں میں، ماہرین کے مطابق اب پاکستان کے جنگی جہازوں کی مانگ دنیا میں بڑھ جائےگی۔
یہ بھی پڑھیں آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتی مالکان کو بڑا ریلیف دینے کی تیاریاں
معاشی ماہر محمد عدنان پراچہ کے مطابق سیز فائر کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد پاکستان پر بحال ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی رہی اور آج تاریخی تیزی دیکھنے میں آئی۔
عدنان پراچہ کے مطابق اب بین الاقوامی سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں جس سے ہمارے معاشی اعشاریے مزید بہتر ہوں گے۔
محمد عدنان پراچہ نے کہاکہ ہم جنگ نہیں چاہتے، پُرامن قوم ہیں لیکن اگر کوئی جنگ کرے گا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کو سبق سکھانے کے بعد اب ہمارے جنگی جہازوں کی مانگ دنیا میں بڑھے گی جس سے نا صرف معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ دفاع بھی مزید مضبوط ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں مسلسل کمی آرہی ہے، بجلی کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں جو انڈسٹری کے لیے بہتر انڈیکیٹر ہے۔
انہوں نے کہاکہ اب پاکستان میں سرمایہ لگانے والے پُراعتماد ہوں گے کیوں کہ پاکستان کی افواج نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اس وقت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ بھارت کو شکست دینے پر سرمایہ کاروں کو نا صرف تحفظ کا احساس ملا ہے بلکہ انہیں اب یقین ہے کہ ہم کسی محفوظ ملک میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔
سینیئر صحافی محمد حمزہ گیلانی کے مطابق سیز فائر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو سرپلس کیا اور سرپلس سے ریکارڈ سرپلس کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار اسٹاک مارکیٹ کو قریباً 10 ہزار پوائنٹس ریکور ہوتے دیکھا ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی اور اس کی وجہ صرف اور صرف سیز فائر ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے۔
حمزہ گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ سارا کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں خوشی میں کیک کاٹا گیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں چین بنگلہ دیش میں 2.
انہوں نے کہاکہ مستقبل پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو دوران جنگ ہی شرح سود میں کمی ہوئی، آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ ہوا اور پھر سیز فائر ہوگیا جس کا کا معیشت پر مثبت اثر پڑنے والا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن بنیان مرصوص اسٹاک ایکسچینج بھارتی جارحیت پاک افواج شرح سود میں کمی ملکی معیشت کو سہارا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص اسٹاک ایکسچینج بھارتی جارحیت پاک افواج ملکی معیشت کو سہارا وی نیوز اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاروں پاکستان اس نے کہاکہ کے مطابق سیز فائر کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔