پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور سیز فائر کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج پھر آسمان کو چھونے لگی۔
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور سیز فائر کے بعد ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے لگے ، جس کا عملی مظاہرہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دیکھا گیا۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ ہفتے کے پہلے ہی روز مارکیٹ کھلتے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نظر آیا اور 100 انڈیکس میں 9 ہزار 900 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس غیر معمولی اضافے کے بعد 100 انڈیکس 1 لاکھ 17 ہزار 100 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم انڈیکس میں 5 فیصد اضافے کے بعد کاروبارکوعارضی طورپرروک دیاگیا ۔ یاد رہے کہ جمعہ کو کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 7 ہزار 174 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ سیز فائر کے بعد کی صورتحال کو سرمایہ کاروں نے مثبت قرار دیتے ہوئے مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کی، جس سے نہ صرف مارکیٹ کا حجم بڑھا بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی حوصلہ افزا اشارے ملے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں سیاسی کشیدگی کم ہوتی رہی تو اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا یہ رجحان آئندہ دنوں میں مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 30 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد ڈالر 281.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔