جنگ بندی کے بعد پہلے ہی روز اسٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارتی جارحیت اور جنگی ماحول کے دوران ریکارڈ مندی کے بعد پاکستان کا بھارت کو بھرپور جواب دیکھنے کو ملا اور بھارت کی جانب سے ہونے والی جارحیت کو طاقت سے روکا گیا، اس کا مثبت اثر پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر ایسا پڑا کہ جنگ بندی کے بعد پہلے کاروباری دن ہی اسٹاک مارکیٹ نے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ایک ہی دن کے آغاز میں 9475 پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچیبج کی تاریخی اوپننگ سے کاروبار ایک گھنٹے کے لیے معطل کردیا گیا، پاکستان اسٹاک ایکسچیبج میں انڈیکس ٹریڈنگ کا آغاز ہی 9929 پوائنٹس کی تاریخی سطح سے ہوا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 8.
مزید پڑھیں: آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کس نے تجویز کیا؟ وی نیوز کے سوال پر فوجی ترجمان نے کیا جواب دیا؟
ماہر اسٹاک مارکیٹ شہریار بٹ کے مطابق کاروبار کھلتے ہی انڈیکس ٹریڈنگ کا آغاز ہی 9929 پوائنٹس کی تاریخی سطح سے ہوا جس کا اندازہ پہلے سے اس لیے تھا کہ جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارت کو شدید نقصان پہنچایا جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور ہم یہی امید کر رہی تھے کیوں کہ جنگ کا اختتام پاکستان کے لیے اچھے نوٹ پر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جب جنگ کے بادل مسلسل منڈلا رہے تھے تو تب ہم نے تاریخی مندی بھی دیکھی لیکن اب اسٹاک مارکیٹ میں بڑھتا ہوا رجحان دیکھنے کو ملے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئی ایم یاف پاک بھارت جنگ پاکستان اسٹاک مارکیٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس پاک بھارت جنگ پاکستان اسٹاک مارکیٹ پاکستان اسٹاک اسٹاک مارکیٹ کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔