پاکستان کا سپر ٹیکس میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
2022میں عام آدمی کو ٹیکس سے بچانے کے لیے بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس لگایا گیا
، سپر ٹیکس میں کمی نہ ہوئی تو سرمایہ کاری نکل کر دبئی جانے کا خدشہ، ایف بی آر ذرائع
پاکستان نے سپر ٹیکس میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطیکا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے سپر ٹیکس میں کمی کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے ، سپر ٹیکس میں کمی نہ ہوئی تو سرمایہ کاری نکل کر دبئی جانے کا خدشہ ہے ، مختلف عدالتوں میں سپر ٹیکس کے 200 ارب کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ 2022 میں عام آدمی کو ٹیکس سے بچانے کے لیے بڑی صنعتوں پر ٹیکس لگایا گیا تھا، سیمنٹ، اسٹیل، شوگر انڈسٹری، آئل اینڈ گیس، ایل این جی ٹرمینل پر سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔اس وقت ملک کی بڑی صنعتوں پر ٹیکس کے علاوہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہے ، اس وقت 10 فیصد سپر ٹیکس کو ملا کر بڑی صنعتوں پر ٹیکس شرح 39 فیصد ہے ۔ذرائع کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سپر ٹیکس میں کمی بڑی صنعتوں پر
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔