عالمی تجارت کی نئی صف بندی، پاکستان کے لیے نیا موقع
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
عالمی تجارت میں بڑی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں بڑے معاشی طاقتوں کے مابین نئے تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور چین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت باہمی محصولات میں 115 فیصد کمی کی گئی ہے اور اہم تجارتی پابندیاں نرم کی گئی ہیں۔
اس معاہدے سے عالمی سطح پر تجارتی تناؤ میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، لیکن مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو مضبوط کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کی موجودہ برآمدات محض 0.
مزید پڑھیں: نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ اولین ترجیح ہے، پاکستانی سفیر
تاہم، اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان صرف ٹیکسٹائل اور کم قیمت مصنوعات پر انحصار کرنے کے بجائے اعلیٰ قدر والے شعبوں جیسے انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی خدمات میں قدم بڑھائے۔ چین کے ساتھ بھی پاکستان کے معاشی تعلقات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔،
2006 میں دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) طے پایا، لیکن پاکستان اس سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکا۔ ویتنام اور تھائی لینڈ جیسے ممالک نے چین کی معیشت کے ساتھ مضبوط انضمام کیا اور اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا، جبکہ پاکستان تحفظاتی پالیسیوں کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔
ترکی اور میکسیکو کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنھوں نے اپنے بڑے معاشی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی انضمام کے ذریعے اپنی برآمدات کو کئی گنا بڑھایا۔ ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ کسٹمز یونین میں شامل ہو کر 2023 تک دو طرفہ تجارت کو 206 بلین یورو تک پہنچایا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے امریکا کو ’زیرو ٹیرف‘ دو طرفہ تجارتی معاہدے کی پیشکش کردی
اسی طرح، میکسیکو نے NAFTA میں شمولیت کے بعد اپنی برآمدات کو 51 بلین ڈالر سے بڑھا کر 594 بلین ڈالر تک پہنچایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھی عالمی تجارتی منظرنامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان چین اور امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک تجارتی معاہدے کرے، تحفظاتی پالیسیوں کو ترک کرے، اور اعلیٰ قدر والی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرے۔ اگر پاکستان نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا، تو عالمی تجارت کی نئی لہر سے محروم رہ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپنی برا مدات عالمی تجارت کہ پاکستان کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔