پیس ڈیلی گیشن وزیر اعظم نے بنایا ہے، شہادت اعوان
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما مسلم لیگ (ن) اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ یہ وہ والی صورت حال تو ہے نہیں کہ آپ کے پاس خالی عہدے ہیں اور اس کیلیے آپ بندے تلاش کر رہے ہیں کہ ضروری ہے کہ دو بندے ان سے لیں، تین ان سے لیں، چار ان سے لیں اور عہدے بھر لیں وہ تو ہے نہیں، ہمیں ایک ایسی ٹیم چاہیے جو باہر جا کر پاکستانی حکومت کی، پاکستانی عوام کی اور اپنا اسٹانس وہاں پر دے، ان کے پاس ایکسیئرنس بھی ہو، آواز بھی ہو، انداز بھی ہو اور ان کا پیچھے ایک ٹریک ریکارڈ ہو۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تو میرے خیال میں اپنی پارٹی کو چھوڑ کر وزیراعظم صاحب کا بلاول بھٹو زرداری کو آگے کر کے ان کو بھیجنا ٹیم کو لیڈ کرنے کا میرے خیال میں بڑا پن ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی شہادت اعوان نے کہا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جو پیس ڈیلی گیشن بنایا ہے یہ پرائم منسٹر صاحب نے بنایا ہے، اس میں ہماری پارٹی سے بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمن، حنا ربانی کھر ان کے اپنے دو لوگ ہیں، مصدق ملک اور خرم دستگیر، ایم کیو ایم سے دوست لیے، پہلے جو سفیر تھے ان کو اس میں رکھا تو میرے خیال میں مے بی مے بی، کہ پی ایم کا اپنا ایک انداز ہے، ان کے ذہن میں ہو کہ یہ جو ٹیم ہے بہتر طور پر ہمارا مقدمہ سامنے رکھ سکے گی۔
رہنما تحریک انصاف ہمایوں مہمند نے کہا کہ اس طرح ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ آپ کیسے ایویلیوایٹ کریں گے، شہادت اعوان صاحب مجھ سے زیادہ اچھے طریقے سے پاکستان کو ریپریذنٹ کریں گے یا میں آپ سے زیادہ پاکستان کا مقدمہ پیش کروں گا یا تو کوئی ٹیسٹ ہوتا وہ تونہیں ہے کوئی چیز نہیں ہے، اب سوال آ جاتا ہے کہ ہم ریپریذنٹ کس کو کر رہے ہیں کیا ہم گورنمنٹ کو ریپریذنٹ کر رہے ہیں یا پاکستان کو کر رہے ہیں، اب انڈیا کا مائنڈ سیٹ دیکھیں کیا انڈیا میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان اللہ واسطے کا بیر نہیں ہے لیکن انھوں نے کیا کیا ہے، سات کمیٹیاں بنائی ہیں، ان میں دو کو لیڈ کر رہے ہیں بی جے پی والے اور باقی پانچ کو اپوزیشن والے لیڈ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔