برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی اسرائیل کو پابندیوں کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں بند نہ کیں اور امدادی سامان پر عائد پابندیاں نہ اٹھائیں تو ان ممالک کی جانب سے ممکنہ طور پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے عام شہریوں کو بنیادی انسانی امداد کی فراہمی سے انکار ناقابل قبول ہے، اور یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
اعلامیے میں مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا تو ان ممالک کی جانب سے ہدفی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں تین ماہ کی مکمل ناکہ بندی کے بعد پہلی بار 5 امدادی ٹرک، جن میں بچوں کی خوراک اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے امدادی سامان کے داخلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔