بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا جب کہ بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج معصوم بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے لگی۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے مکروہ ہتھکنڈوں کی ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آگئی، مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح معصوم بچوں کو خوارج اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ معصوم بچوں کو ڈھال بنا کر سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنا فتنہ الخوارج کی بزدلانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے، بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج کے متعدد دہشتگردانہ حملوں میں معصوم بچے جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر مورد الزام سیکیورٹی فورسز کو ٹھہرا رہی ہے، معصوم بچوں کو یرغمال بنا کر دہشتگردانہ حملوں میں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ایک مکروہ فعل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فتنہ الخوارج بچوں کو
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔