بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کا بلوچستان میں مداخلت کا بڑا ثبوت سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کا بلوچستان میں مداخلت کا بڑا ثبوت سامنے آگیا۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ بھارتی حکومت اور انتہا پسند ہندو بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، حکومت پاکستان اور مسلح افواج اس حوالے سے کئی بار شواہد ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے پیش کرچکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب خود بھارت میں ہندوتوا نظریے کے حامل شخص نے یہ اقرار کیا ہے، بھارت کی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والا ہندوتوا گروپ کا رکن ’’بلوچستان آرمی‘‘ کا ایکس اکاؤنٹ چلاتا ہے۔
بھومیہار ساگر نامی ہندوتوا گروپ کے رکن نے ایکس سے اپیل کی ہے کہ مجھے یہ جان کر مایوسی محسوس ہوئی کہ میرا ذاتی اکاؤنٹ @BhumiharSagar_ غیر مستند قرار دے کر معطل کر دیا گیا ہے۔
بھومیہار ساگر نے کہا کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ اکاؤنٹ واقعی میرا ہے، میں بھومی ہار ساگر ہوں، جو اس پلیٹ فارم پر اپنی زندگی، خیالات اور تجربات شیئر کرتا رہا ہوں، براہ کرم میری شناخت کا جائزہ لے کر اکاؤنٹ بحال کیا جائے۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ بھومیہار ساگر کا یہ اقرار ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کیلئے فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری بھارت سے ہوتی ہے، اس اپیل سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھومیہار ساگر بلوچستان میں ہندوستانی دہشت گرد پراکسیوں کیلئے کام کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔