مذاکرات کرنے ہیں تو بانی تحریک انصاف تیار ہیں( علی امین گنڈاپور)
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اگر پارٹی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی تو آئی ایم ایف شرائط پر ساتھ نہیں دیں گے
ملک میں حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ہمارے ورکرز آج بھی جیلوں میں ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو بانی تحریک انصاف اس کے لیے تیار ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرت ہوئے کہا ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ہمارے ورکرز آج بھی جیلوں میں ہیں۔ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو عمران خان اس کے لیے تیار ہیں، لیکن ہماری تحریک جاری ہے اور جلد ہم اپنی پارٹی کے بانی کو رہا کرائیں گے۔ کارکنوں کی جان مال کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہائیکورٹ آرڈر کے باوجود ہمیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ بجٹ، حکومتی اور سیاسی معاملات پر بانی پی ٹی آئی کو بریفنگ دی ہے۔ اگر پارٹی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی تو آئی ایم ایف شرائط پر ساتھ نہیں دیں گے۔وزیراعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے۔ بانی پی ٹی آئی کا مجھ پر اعتماد ہے اور جو بیان انہوں نے دیا میں اس کا پابند ہوں۔ پیسے کمانے والے لوگ مجھ سے نظریے کی بات نہ کریں۔علی امین گنڈاپور نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کے ساتھ ہے، فیصلے کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے کہا کہ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔