Daily Mumtaz:
2026-06-03@08:31:21 GMT

فلم لو گرو کا بجٹ کتنا ہے؟ ہمایوں سعید نے بتادیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

فلم لو گرو کا بجٹ کتنا ہے؟ ہمایوں سعید نے بتادیا

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے اپنی آنے والی فلم لو گرو کے بجٹ سے پردہ ہٹا دیا۔

عید الاضحیٰ 2025ء پر ریلیز ہونے والی اس رومانٹک کامیڈی فلم کو ندیم بیگ نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ اسکرپٹ واسع چوہدری نے لکھا ہے، فلم میں ماہرہ خان اور ہمایوں سعید مرکزی کرداروں میں جلوہ گر ہوں گے۔

فلم کی کہانی ایک خود ساختہ لو گرو اور لندن میں مقیم ایک آرکیٹیکٹ صوفیہ کے گرد گھومتی ہے، اس فلم کی شوٹنگ لندن اور کراچی میں کی گئی ہے۔

ہمایوں سعید اس وقت ماہرہ خان کے ساتھ امریکا میں فلم کی پروموشن میں مصروف ہیں جہاں ان سے ایک سوال میں جب فلم کے بجٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بجٹ اتنا بڑا نہیں، ہم نے اس فلم پر 28 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، یہ ایک پاکستانی فلم ہے، اس لیے یہ رقم بالی ووڈ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، آپ جو ہمارے ڈرامے دیکھتے ہیں، ان کا بجٹ بھی بہت محدود ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کی بات نہ کریں بس مجھے یہ بتائیں کہ کوالٹی کیسی ہے؟ فلم کو دیکھ کر لگنا چاہیے کہ یہ 100 کروڑ کی ہے، چاہے بجٹ 30 کروڑ ہی کیوں نہ ہو!

مداحوں نے ہمایوں سعید کی اس بات کو سراہا اور کہا کہ واقعی، پاکستانی ڈرامے دنیا کے بہترین ڈرامے ہیں اور محدود بجٹ کے باوجود شاندار کوالٹی پیش کرتے ہیں۔

ہمایوں سعید نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے ایک بڑے مسئلے کم سینما اسکرینز پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ اسکرینز کی ضرورت ہے تاکہ بزنس اچھا ہو سکے، جو فلمیں کامیاب ہوئیں جیسے مولاجٹ، جوانی پھر نہیں آنی 2، قائداعظم زندہ باد، پنجاب نہیں جاؤں گی، لندن نہیں جاؤں گا وہ صرف 100 سے 120 اسکرینز پر ریلیز ہوئیں، ذرا تصور کریں کہ اگر ہمارے پاس 500 یا 1000 اسکرینز ہوں، تو کیا ہو۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہمایوں سعید کہا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی