مائرہ خان اور ہمایوں سعید کی فلم لو گرو کا بجٹ کتنا ہے؟ حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم ’’لو گرو‘‘ کی پروموشن کے لیے ہیرو ہمایوں سعید اور ہیروئن مائرہ خان امریکا میں پوری ٹیم کے ہمراہ خاصے مصروف ہیں۔
رومانوی کامیڈی فلم ’’لو گرو‘‘ کے ہدایت کار ندیم بیگ ہیں جب کہ اس کی کہانی وصی چوہدری نے لکھی ہے۔
فلم کی کہانی ایک خود ساختہ ’لو گرو‘ کے گرد گھومتی ہے جو لندن کی صوفیہ نامی ایک آرکیٹیکٹ کے ساتھ غیر متوقع طور پر جُڑ جاتا ہے۔
فلم کی شوٹنگ لندن اور کراچی میں ہوئی ہے۔ فلم کے ٹریلر اور پروموشنل گانے کو مداحوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔
ایک ایونٹ میں ہمایوں سعید نے فلم کے بجٹ سے متعلق اہم انکشاف کیا کہ فلم کا بجٹ کوئی بہت زیادہ نہیں تھا ہم نے اس پر صرف 28 کروڑ خرچ کیے ہیں۔
اداکار نے کہا کہ ہمارے ڈراموں کا بجٹ بھی کم ہی ہوتا ہے۔ بجٹ کے بجائے کوالٹی پر دھیان دیتے ہیں۔ فلم دیکھ کر ایسا لگنا چاہیے کہ یہ 100 کروڑ کی فلم ہے۔
ہمایوں سعید نے فلمی صنعت کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زیادہ اسکرینز کی ضرورت ہے تاکہ فلمیں اچھا بزنس کر سکیں۔
انھوں نے کہا جن پاکستانی فلموں نے اچھا بزنس کیا جیسے مولا جٹ، جوانی پھر نہیں آنی 2، قائداعظم زندہ باد، پنجاب نہیں جاؤں گی اور لندن نہیں جاؤں گا یہ سب صرف 100 سے 120 اسکرینز پر ریلیز ہوئیں۔
ہمایوں سعید نے کہا کہ ذرا سوچیں اگر ہمارے پاس زیادہ اسکرینز ہوتیں تو کتنا بزنس ہوتا۔ لوگ تبھی سینما آتے ہیں جب انہیں معیاری مواد نظر آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہمایوں سعید لو گرو
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر