یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم سعید عرف سعید سنیارا گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(او صاف نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2023 میں پیش آنے والے یونان کشتی حادثےکے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے کے مطابق 2023 میں پیش آنے والے یونان کشتی حادثےکے مرکزی ملزم محمد سعید عرف سعید سنیارا کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
کشتی حادثےکے بعد تحقیقات میں سعید سنیارا کا نام سامنےآیاجس کے بعد سعید سنیارا کو وزرات داخلہ کی ریڈ لسٹ میں شامل کیاگیاتھا۔
واضح رہے کہ لیبیاسےاٹلی جانے والی کشتی کو جون 2023 میں حادثہ پیش آیا تھا جس میں 500کے قریب افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے 300کےقریب پاکستانی تھے۔
گندم اور میدا سستا ہونے کے باووجود نان، روٹی اور بیکری آئٹمز کی قیمتیںکم نہ ہوسکیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سعید سنیارا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔