لندن میں گھر کو آگ لگنے سے پاکستانی نژاد خاندان کے 4 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
لندن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی 2025ء ) لندن میں گھر کو آگ لگنے سے پاکستانی نژاد خاندان کے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں گھر کو آگ لگنے سے برٹش پاکستانی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوئے، پولیس نے ان چاروں افراد کے قتل کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی کا یہ واقعہ برینٹ میں پیش آیا جہاں 43 برس کی خاتون اور ان کی 15 سالہ بیٹی، 8 سالہ بیٹا اور 4 سالہ بیٹا جاں بحق ہوگئے، خاندان کی ایک 70 سالہ خاتون اور ایک نوجوان لڑکی کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا، آگ سے اسٹون برج میں واقع خاتون کا تین منزلہ مکان مکمل تباہ ہوگیا جب کہ پولیس نے 41 برس کے مرد کو جائے وقوعہ سے قتل کے شبے میں گرفتار کرلیا۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد برطانیہ میں مقیم ہے جب کہ رواں برس برطانیہ میں سیاسی پناہ تلاش کرنے والے افراد کی فہرست میں پاکستانی شہری پہلے نمبر پر پہنچ چکے ہیں، برطانوی وزارت داخلہ نے اپنے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ گزشتہ برس 11 ہزار 48 پاکستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، جو مجموعی طور پر 1 لاکھ 9 ہزار 343 درخواستوں کا ایک بڑا حصہ ہے، اس سے پہلے 2023/24ء کے عرصے میں پاکستانی شہری سیاسی پناہ کے خواہاں افراد میں تیسرے نمبر پر تھے۔(جاری ہے)
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کئی عوامل کا نتیجہ ہوسکتی ہے، جن میں ملک میں معاشی عدم استحکام، سیاسی کشیدگی اور روزگار کے محدود مواقع شامل ہیں، یہ اعداد و شمار نا صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے سماجی و اقتصادی حالات کے بارے میں اہم اور غور طلب امور کی نشاندہی کرتے ہیں، ان اعداد و شمار سے یورپی ممالک کے لیے مہاجرت کے بحران سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسیاں بنانے کی ضرورت کو عکاسی ہوتی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔