روس کا کیف پر شدید میزائل اور ڈرون حملہ، 3 افراد ہلاک، 250 ڈرونز داغے گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کیف: روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ہفتے کی رات شدید فضائی حملہ کیا، جس میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے 14 بیلسٹک میزائل اور 250 خودکش ڈرونز فائر کیے، جن میں سے 6 میزائل اور 245 ڈرونز تباہ کر دیے گئے۔
کیف کے میئر وٹالی کلیتشکو نے اس حملے کو "بڑے پیمانے پر حملہ" قرار دیا، جو پے در پے دوسرے دن دارالحکومت پر ہوا۔ فضائی حملے کے سائرن کئی گھنٹوں تک بجتے رہے، جس سے شہری پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
کیف، خارکیف اور دونیتسک کے مختلف علاقوں میں عمارتیں تباہ ہوئیں اور آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق ہفتے کی رات کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے، جب کہ اتوار کی صبح کے حملوں میں مزید 10 افراد زخمی ہوئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرینی حکام نے روس پر جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے حملے تیز کرنے کا الزام لگایا ہے۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: "ہر رات ہماری افواج زندگیاں بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ روس کا یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کے جاری رہنے کی ذمہ داری صرف ماسکو پر ہے۔"
دوسری جانب، یوکرین اور روس کے درمیان 600 سے زائد قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوا، جو فروری 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کا سب سے بڑا تبادلہ تھا۔
روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ماسکو، بیلگورود اور ٹولا جیسے علاقوں پر کیے گئے 100 سے زائد یوکرینی ڈرون حملے ناکام بنائے۔
یوکرینی وزیر خارجہ آندری سبیخا نے روس پر امن مذاکرات کے بجائے حملے تیز کرنے کا الزام لگایا اور کہا: "استنبول مذاکرات کے ایک ہفتے بعد بھی روس نے امن کے بجائے میزائل بھیجے۔"
صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے جاری رہنے کا امکان ہے، جب کہ بین الاقوامی سطح پر فوری جنگ بندی کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔