ایک طرف قیدیوں کا تبالہ، دوسری طرف روس کا یوکرین پر خوفناک حملہ، 13 ہلاک اور 18 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر مسلسل دوسرے روز بھی مہلک فضائی حملے کیے، جن میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ اتوار کی صبح کیے گئے ان حملوں میں 13 افراد ہلاک اور کم از کم 18 زخمی ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ شہری عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
کیف کے میئر ویٹالی کلچکو نے ان حملوں کو ”بڑے پیمانے پر“ قرار دیا، جبکہ فضائی حملے کے سائرن کئی گھنٹوں تک گونجتے رہے۔ شہریوں کو رات بھر پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یوکرین کی فضائیہ نے بتایا کہ ڈرونز، بیلسٹک اور کروز میزائلز پر مشتمل یہ حملے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، جن میں بنیادی توجہ دارالحکومت کیف پر مرکوز تھی۔
حالیہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب بین الاقوامی برادری روسی صدر ولادیمیر پوتن پر جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی سفارتی دباؤ ڈال رہی ہے۔ رواں ماہ استنبول میں ہونے والی روس-یوکرین پہلی براہِ راست ملاقات کے نتیجے میں اگرچہ کسی جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے پر رضامندی ظاہر کی، جس کا عمل جمعے سے جاری ہے۔
قیدیوں کا تبادلہ: ہزاروں کی رہائی
قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے میں ہفتے کو 600 سے زائد روسی اور یوکرینی فوجیوں کو رہا کیا گیا۔ جمعے کو پہلے مرحلے میں تقریباً 800 قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ یوکرین کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رہا ہونے والے قیدی ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے ہیں اور اپنے پیاروں کو فون کر رہے ہیں۔
ایک جذباتی لمحے میں، یوکرینی خاتون اولینا نے چھ ماہ بعد اپنے قیدی شوہر یوری سے ملاقات کی۔ وزارت دفاع کی جانب سے جاری ویڈیو میں اولینا کو اپنے شوہر کو تلاش کرتے ہوئے روتے اور بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
روس پر بھی یوکرینی ڈرون حملے
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو اس نے 100 کے قریب یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا یا روک لیا، جن میں سے اکثر مرکزی اور جنوبی روس میں مار گرائے گئے، جبکہ دو ماسکو کے قریب گرے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق صرف دارالحکومت کے گردونواح میں 11 ڈرونز کو روکا گیا۔
اس سے ایک روز قبل روسی وزارت دفاع نے 94 یوکرینی ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں سے بیشتر بیلگورود اور بریانسک کے علاقوں میں تباہ ہوئے۔ دیگر حملے کورسک، لیپیتسک، وورونیش اور تُولا کے علاقوں میں بھی کیے گئے۔ تُولا کے گورنر نے بتایا کہ ان حملوں میں تین افراد زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
سفارتی کوششیں ناکام، جنگ جاری
استنبول میں ہونے والی ملاقات یوکرین کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے روس کو دی گئی جنگ بندی یا پابندیوں کی دھمکی کے جواب میں ہوئی تھی، تاہم روس نے کوئی امن منصوبہ پیش نہیں کیا۔ یوکرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’جنگ بندی کی بجائے، روس شہریوں پر ڈرون اور میزائل برسا رہا ہے۔‘
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ ’یہ تمام یوکرین کے لیے ایک مشکل رات تھی۔‘ انہوں نے زخمیوں کے اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزارت دفاع کیا گیا کیے گئے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔