حماس کی حراست سے رہائی پانی والی اسرائیلی خاتون نے اپنی ہی فوج کی جارحیت کا احوال سنادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسرائیلی یرغمالی سابق خاتون فوجی نے غزہ میں جارحیت کا احوال سناتے ہوئے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ خوف اپنے ہی ملک سے تھا، میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔
غزہ میں حماس کے ہاتھوں حراست میں لی جانے والی ایک سابق اسرائیلی فوجی نعاما لیوی نے انکشاف کیا کہ قید کے دوران اسے سب سے زیادہ خوف اسرائیلی فضائی حملوں کا تھا، جس سے وہ اپنی موت کو قریب محسوس کرتی رہیں۔
نعاما لیوی اُن 5 اسرائیلی خاتون فوجیوں میں شامل تھیں جنہیں رواں سال جنوری میں جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا، تل ابیب کے مشہور ’ہوسٹیج اسکوائر‘ پر منعقدہ احتجاجی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے لیوی نے اپنی اسیری کے کربناک لمحات بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ جب بمباری ہوتی، تو پہلے سیٹی جیسی آواز آتی، ہم دعا کرتے کہ یہ ہم پر نہ گرے، پھر ایک زور دار دھماکا ہوتا، اتنا شدید کہ پورا جسم ساکت ہو جاتا اور زمین ہلنے لگتی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر بار لگتا تھا کہ بس، اب میری زندگی ختم ہو گئی ہے، یہ میری سب سے خوفناک یادوں میں سے ہے اور سب سے زیادہ خطرناک بھی یہی تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک بار فضائی حملے میں وہ مکان جزوی طور پر منہدم ہو گیا جہاں میں قید تھی، یہ میری حقیقت تھی اور اب وہاں باقی قیدیوں کی حقیقت بھی یہی ہے، انہیں بس دیوار سے لپٹ کر دعا کرنی ہوتی ہے۔
اسرائیلی یرغمالی نے بتایا کہ ابھی اسی لمحے وہاں کئی یرغمالی ہیں جو ان دھماکوں کو سنتے ہیں، خوف سے کانپتے ہیں، اُن کے پاس بھاگنے کی جگہ نہیں، بس دیوار سے لپٹ کر دعا کرتے ہیں، ایک ایسی بے بسی کے ساتھ جو بیان سے باہر ہے۔
لیوی کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہل خانہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور غزہ جنگ کو بند کرنے کےلیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اس سے قبل بھی، ایک اور سابق اسرائیلی یرغمالی نے کہا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ ڈر یہی تھا کہ ہمیں حماس نہیں، بلکہ اسرائیل ہی مار دے اور پھر کہہ دے کہ یہ حماس کا کام ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سب سے زیادہ
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔