WE News:
2026-07-24@04:37:51 GMT

ٹرمپ کو پاکستان سے کیا کام ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

ٹرمپ دوبارہ صدر بننے کے بعد سے ٹروتھ سوشل پر اکثر پاکستان کے حق میں پوسٹ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 10 مئی کو ایسی ہی ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ‘پاکستان ٹیلنٹڈ لوگوں کا ملک ہے، ہمیں فخر ہے کہ ہم ان کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں’۔

17 مئی کو تو لٹ ہی پڑگئی۔ فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے پاکستان کو ‘دنیا کے بہترین اور باصلاحیت لوگوں’ کا ملک بھی قرار دے دیا جو بہترین پراڈکٹ تیار کرتے ہیں۔ ایسا کہتے ہوئے وہ یہ کہنا نہیں بھولا کہ انڈیا نے امریکی پراڈکٹ پر سب سے زیادہ ٹیرف عائد کر رکھے ہیں۔

انڈیا کو لتاڑنے پر تو چلیں آج کل ہمارا خوش ہونا بنتا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات تو ہے کہ ایسی کون سی ہماری بہترین پراڈکٹ ہیں جن کا ٹرمپ بھی مداح ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے والا شخص ہے، اپنے لوگوں سے میں نے کہہ دیا کہ وہ انڈیا کے ساتھ جنگ بندی کے بعد فوری طور پر پاکستان کے ساتھ ٹریڈ میں اضافہ کریں۔

5 مارچ کو صدر بننے کے بعد اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں پاکستان واحد ملک تھا جس کا ڈونلڈ ٹرمپ نے شکریہ ادا کیا۔ پاکستان نے کابل ایئر پورٹ پر 2021 میں خود کش حملے میں مدد کرنے والے دہشتگرد کو پکڑنے میں مدد دی تھی۔ پاک بھارت تناؤ کے دوران بھی اور جنگ بندی کے بعد بھی ٹرمپ کا انداز بیان مودی سرکار کے لیے پریشان کن ہی رہا ہے۔

رئیر ارتھ اور کریٹکل منرل، دفاع اور ٹیکنالوجی میں برتری کے لیے اہم ہیں۔ منرل کی سپلائی چین اور ذخائر پر چین کا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی حکمت عملی میں ‘ری شورنگ’ یعنی منرل کے لیے چین پر انحصار کم کرنا اہم ترجیح ہے۔ پاکستان اپنے معدنی ذخائر کی وجہ سے اہمیت اختیار کرچکا ہے۔

پاکستان اب ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک اب سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے۔ بائنانس کے بانی چانگپینگ ژاؤ بھی اس شعبے میں پیش قدمی کے لیے پاکستانی حکومت کو غیر رسمی مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان اپنے آبادی اور معیشت کے سائز کی وجہ سے بھی ایک پرکشش ملک ہے۔

ٹرمپ خاندان سے منسلک ‘ورلڈ لبرٹی فنانشل’ نے پاکستان کرپٹو کونسل کے ساتھ ایک ایم او یو پر بھی سائن کیے ہیں۔ اس کا مقصد پاکستان کو ایک اسٹیبل کوائن کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام میں ایک متبادل رسائی فراہم کرنا ہے۔ ٹرمپ کے داماد جئرڈ کشنر بھی اس منصوبے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ کشنر پہلے ہی مڈل ایسٹ میں ایسے ہی ہائی ٹیک سے متعلق سرمایہ کاری منصوبے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے بعد پاکستان نے واشنگٹن کی بڑی لابنگ فرم بی جی آر گروپ کی خدمات حاصل کرلی تھیں۔ اس کے نتیجے میں امریکی محکمہ تجارت اور سرمایہ کاری سے وابستہ کئی اعلیٰ شخصیات، جیسے کہ ڈیوڈ ملر ( یو ایس ایکسپورٹ امپورٹ بنک کے سابق ڈائریکٹر) اور الینا بارٹلیٹ (ٹرمپ کی مہم کی فنانس ڈائریکٹر)، اسلام آباد پہنچیں۔

پاکستانی وزارت تجارت اور منصوبہ بندی کمیشن کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں توانائی، انفراسٹرکچر اور بلاک چین ( کریپٹو، بینک ٹرانزیکشن کی ڈیجیٹل اور محفوظ ٹیکنالوجی ) کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ 2000 میگاواٹ بجلی اے آئی ڈیٹا سنٹر اور کریپٹو کے لیے مختص کی جا رہی ہے۔ ڈیٹا سنٹر کے لیے توانائی بنیادی اوربڑی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی میں برتری کے لیے کریٹکل منرل اہم ترین ہیں۔ اب تک یوکرین، روس، کسی حد تک افغانستان اور پاکستان کی منرل سائٹ ہی بڑی حد تک چین سے بچی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں گلگت بلتستان، فاٹا، بلوچستان ان سب جگہ یہ ذخائر موجود ہیں۔ امریکا کو اپنی ٹیکنالوجی میں برتری برقرار رکھنی ہے تو پاکستان افغانستان سے صرف منرل ہی نہیں حاصل کرنے بلکہ جاری دہشت گردی اور بدامنی کا خاتمہ بھی کرنا ہے۔

اس حوالے سے ٹرمپ کے ان بیانات کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ جن میں وہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف قابل فخر پارٹنر بتا رہا ہے۔ پاکستان کی یہ نئی اہمیت ہی بتاتی ہے کہ کیوں ٹرمپ انڈیا پر پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے اور اسے پاکستان سے کیا کام ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

بائنانس پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کرپٹو مائننگ منرلز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کرپٹو پاکستان کو کے ساتھ رہے ہیں کے بعد کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت