بڑے سیاسی گھرانے کی شخصیت کے کرپٹو میں 10 کروڑ ڈالر ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد: ایک بڑے سیاسی گھرانے کی شخصیت کے کرپٹو میں 10 کروڑ ( 100 ملین )ڈالر ڈوب جانے کاانکشاف ہواہے ،یہ انکشاف سینئر اینکرپرسن ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں کیا،پروگرام میں شریک عوام پاکستان پارٹی کے رہنمااور سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی اینکرکے دعوے کی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ میں نے بھی یہ سنا ہے،اس انکشاف کے بعد ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالاٹ اٹھے ہیں جب کہ حکومت پاکستان ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کاباضابطہ بنانے کے ایجنڈے پرعمل پیراہے جس کے لئے پاکستان کرپٹو کونسل کاقیام عمل میں لایاگیا ،بلاک چین ٹیکنالوجی کے ماہر بلال بن ثاقب کو کونسل کاسربراہ بنایاگیاہے، پاکستان کرپٹو کونسل نے کچھ عرصہ قبل کرپٹو کرنسی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل(ڈبلیوایل ایف) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں ،معاہدے کا مقصد پاکستان میں بلاک چین جدت، اسٹیبل کوائن کے استعمال اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے انضمام کو تیز کرنا ہے،ڈبلیوایل ایف جس میں مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے 60 فیصد حصص ہیں۔ورلڈ لبرٹی فنانشل کوئی عام فنٹیک اسٹارٹ اپ نہیں ہے،کمپنی کی 60 فیصد ملکیت ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ساتھ ساتھ ان کے داماد جیرڈ کشنر کی ہے۔ اس کے بانی،Zachary Witkoff، رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اور طویل عرصے سے ٹرمپ کے اتحادی اسٹیو وٹ کوف کے بیٹے ہیں، جو اب امریکی خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔