نوشکی، انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید، دوسرا زخمی،صدر اور وزیراعظم کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
نوشکی، انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید، دوسرا زخمی،صدر اور وزیراعظم کی مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 27 May, 2025 سب نیوز
نوشکی(سب نیوز)بلوچستان کے شہر نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ میں ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق نوشکی کے علاقے کلی محمد حسنی میں نامعلوم افراد نے انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی جس سے وحید شہید ہو گیا، شہید اہلکار کی نعش ہسپتال منتقل کر دی گئی، انسداد پولیو ٹیم کے دیگر ارکان محفوظ رہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق فائرنگ کے واقعہ کے بعد ضلع میں انسداد پولیو مہم عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے بتایا کہ نوشکی میں پولیو ٹیم پر حملہ میں شہید اہلکار وحید کا تعلق جمال آباد نوشکی سے تھا، فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کرنے پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔شاہد رند نے کہا کہ پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے، اس پر حملہ ناقابل برداشت ہے، یہ حملہ قومی مہم سبوتاژ کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی سازش ہے، تخریب کاروں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لائی جائے گی، بلوچستان حکومت پولیو ٹیموں اور سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کو مزید موثر بنائے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی اور شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ پولیو ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، میری اساتذہ، علما کرام اور سول کمیونٹی سے درخواست ہے کہ وہ انسداد پولیو مہم کی حمایت کریں، غلط فہمیوں کو ختم کریں اور عوام میں اعتماد پیدا کریں، میڈیا بھی پولیو ویکسین کی اہمیت اور محفوظ ہونے کا پیغام عام کرے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے نوشکی میں انسداد پولیو مہم ٹیم پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔انہوں نے نے فائرنگ سے شہید پولیس اہلکار کے لیے اظہار افسوس اور اہلکار کے اہلخانہ سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے انسداد پولیو ٹیم پر حملہ قابل بردشات نہیں، پولیو کی مہم کے خلاف شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کیواقعہ کی مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکار عبدالوحید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔وزیر داخلہ نے شہید اہلکار کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ عبدالوحید نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ بچوں کے محفوظ و صحت مند مستقبل پر حملہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمودی کی حالیہ تقریر نفرت انگیز، پرتشدد اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی، عالمی برادری نوٹس لے،پاکستان مودی کی حالیہ تقریر نفرت انگیز، پرتشدد اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی، عالمی برادری نوٹس لے،پاکستان ججز ٹرانسفر و سینیارٹی کیس میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں کے منٹس طلب جھوٹا بھارتی بیانیہ بے نقاب کرنے کیلئے بلاول کی قیادت میں پاکستانی سفارتی ٹیم کا دورہ امریکا طے آرڈی اے مالیاتی ریکارڈ میں بے ضابطگیاں، ریاستی خزانے کو بھاری نقصان اسلام آباد میں بکرا منڈیوں کی نیلامی سے ریکارڈ آمدن، 55 فیصد اضافہ دوست ممالک کے دورے: وزیراعظم ایران کے بعد آذربائیجان پہنچ گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انسداد پولیو ٹیم پر پولیو ٹیم پر حملہ پولیس اہلکار
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔