پی ایس ایل فائنل؛ کیا گلیڈی ایٹرز کپتان کی وجہ سے ہاری؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فرنچائز کو کپتان سعود شکیل کی ناقص فارم کی وجہ سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل رواں پی ایس ایل سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کپتانی کے فرائض نبھارہے تھے تاہم وہ 12 میچز کی 11 اننگز میں کوئی ففٹی تک اسکور نہ کرسکے۔
سعود شکیل محض کپتان ہونے کے باعث کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسکواڈ کا حصہ رہے جبکہ اس دوران جارح مزاج کرکٹر خواجہ نافع کو صرف مواقع مل سکے، پہلے میچ میں وہ کراچی کنگز کیخلاف 1 اور دوسرے میچ میں انہوں نے ملتان سلطانز کیخلاف 51 رنز کی اننگز کھیلی تاہم اسکے باوجود انہیں بینچ پر بٹھادیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسپورٹس پریزینٹر کی آئی پی ایل میں کھلاڑی کو ڈیٹ کرنے کی خبریں
جارح مزاج اوپنر کو فائنل میں بینچ پر بٹھائے جانے پر گلیڈی ایٹرز کے فینز نے کپتان سعود شکیل کو آڑے ہاتھوں لیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائقین کرکٹ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کرکٹر خواجہ نافع کو موقع دینے کے بجائے سعود شکیل خود اوپنر آئے، جس کے باعث ٹیم کو نقصان ہوا۔
مزید پڑھیں: "پیسوں سے بڑھ کر کچھ نہیں" عماد کا سکندر رضا کی کمٹمنٹ پر بیان
واضح رہے کہ پی ایس ایل فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سعود شکیل محض 4 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے تھے جبکہ اس میچ میں حسن نواز نے 76 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو 200 رنز کے ہندسے تک پہنچایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پی ایس ایل سعود شکیل
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔