مستقل بنیادوں پر ججز ٹرانسفر کر کے جوڈیشل کمشن کے اختیار کو غیر موثر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس شکیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت کے دوران ججوں نے سوال اٹھائے ہیں کہ کیا مستقل بنیادوں پر ججز ٹرانسفر کرکے جوڈیشل کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کیا جاسکتا ہے۔ ٹرانسفر ججز کیلئے بنیادی اصول کیا اور کیسے طے کیا گیا ہے؟۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفرنگ ججز کی نئی تقرری نہیں ہوئی۔ ججز ٹرانسفر پر آئے ہیں تو نئے حلف کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے سنیارٹی تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔ جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ سیکرٹری لا نے ٹرانسفرنگ ججز کے حلف نہ اٹھانے کی وضاحت کیوں دی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وضاحت کی وجہ یہ تھی کہ ایڈوائز کی منظوری کے بعد ججز کے نوٹیفکیشن میں ابہام نہ ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججز کی سنیارٹی کا تعین اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیا۔ جسٹس عامر فاروق سنیارٹی کے تعین میں مکمل آزاد تھے، چار ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز اور رجسٹرار کی رپورٹ میں ججز تبادلہ پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ پانچ ججز کی ریپریزنٹیشن پر جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ دیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز کی ریپریزنٹیشن اور فیصلہ پر درخواست گزار وکلا نے دلائل میں ذکر تک نہیں کیا۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ کسی نے ریپریزنٹیشن اور فیصلہ کو پڑھا نہ ہی دلائل دیے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریپریزنٹیشن میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی استدعا کیا تھی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز نے ٹرانسفرنگ ججز کی دوبارہ حلف اٹھانے پر سنیارٹی کے تعین کی استدعا کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو درخواست گزار ججز کے وکلا نے تمام باتیں نہیں بتائیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز ٹرانسفر کا پورا عمل عدلیہ نے کیا ایگزیکٹو کا کردار نہیں تھا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ ٹرانسفر ججز کیلئے بنیادی اصول کیا اور کیسے طے کیا گیا۔ جسٹس ڈوگر کا لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں 15نمبر تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب ایک جج ایڈیشنل جج کے طور پر حلف لیتا ہے تو اس کی سینارٹی شروع ہو جاتی ہے، ججز کتنا وقت اپنی ہائیکورٹس میں گزار چکے، ٹرانسفر کے بعد ان کی میعاد بھی جھلکنی چاہیے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پینشن اور مراعات انہیں مل جائیں گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو آرٹیکل 200 مکمل طور پر غیر موثر ہو جائے گا، کس جج کی سنیارٹی کیا ہوگی، یہ اس ہائی کورٹ نے طے کرنا ہوتی ہے۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے سوال پوچھا کہ ٹرانسفر ہوکر آنے والے ججز کہاں کے ججز ہیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ ججز اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ یہ تو ابھی طے ہونا باقی ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ مستقل ججز کی تعیناتی تو جوڈیشل کمیشن کرتا ہے۔ کیا مستقل بنیادوں پر ججز ٹرانسفر کرکے جوڈیشل کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کیا جاسکتا ہے، کہا گیا سندھ رورل سے کوئی جج نہیں اس لیے لایا گیا۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ کیا سندھ سے کوئی جج اسلام آباد ہائی کورٹ میں نہیں تھا، بلوچستان ہائیکورٹ سے ایک ایڈیشنل جج کو اسلام آباد ہائی کورٹ لایا گیا، بلوچستان ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر آنے والے ایڈیشنل جج کی کنفرمیشن کون سی ہائیکورٹ کرے گی، کون سی ہائی کورٹ کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ججز ٹرانسفر وہاں ہو سکتے ہیں جہاں فرض کریں اسلام آباد ہائی کورٹ ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹیکس کیسز سننے کیلئے ماہر جج چاہیے تو اس کیلئے عارضی جج لایا جا سکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ امید ہے آئندہ سماعت پر کیس کی سماعت مکمل ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر نے جسٹس شکیل احمد نے نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل نے نے کہا کہ ججز کی کہ ججز
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ