پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی بنچوں پر آزاد حیثیت میں موجود 35ارکان میں 11 حکومتی ٹیم کا حصہ جبکہ 9مزید ارکان کو پارلیمانی سیکریٹریز کے طور پر ایڈجسٹ کرنے سے آزاد ارکان کے سہارے علی امین گنڈاپور کی حکومت کا تختہ الٹنے کا امکان ختم ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے پارلیمانی سیکریٹریز کے طور پر ایڈجسٹ کیے گئے آزاد ارکان میں اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر اور ڈیڈک پشاور کے چیئرمین بھی شامل ہیں، جس کے بعد حکومتی ٹیم سے باہر آزاد ارکان کی تعداد صرف13 رہ جاتی ہے، جس کے حکومت کا تختہ الٹنے کا امکان نہیں ہے۔

حکومت سے باہر رہ جانے والے آزاد اراکین کے اپوزیشن کے ساتھ ملنے سے ایوان میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 65 ہوسکتی ہے جبکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے ایوان میں 73ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کو25 مخصوص نشستیں ملنے اور اپوزیشن ارکان کی تعداد52 پر پہنچنے کے بعد سب کی نظریں ایوان میں حکومتی بینچوں پر موجود  35آزاد ارکان پر لگ گئی تھیں کہ ان میں سے کتنے ارکان کھسک کر اپوزیشن کی طرف جاتے ہیں تاکہ اپوزیشن ایوان میں 73کا ہندسہ پورا کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کی حکومت گراسکے۔

تاہم مذکورہ 35میں 11ارکان وہ شامل ہیں جو پہلے ہی سے علی امین حکومت کاحصہ ہیں جن میں صوبائی وزرا آفتاب عالم، فضل حکیم ، محمد عدنان قادری ، میناخان ، خلیق الرحمٰن ، مشیرزاہد چن زیب، معاونین خصوصی رنگیز احمد، محمد سہیل آفریدی، مصورخان، ڈاکٹر امجد علی اور لیاقت علی شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے جن 27اراکین صوبائی اسمبلی کو اپنی ٹیم میں بطور پارلیمانی سیکریٹریز شامل کیا ہے، ان آزاد ارکان میں شفیع اللہ جان، ملک عدیل اقبال، افتخار جدون، رجب علی عباسی، فضل حق، محمد ریاض، اجمل خان، عبدالکبیرخان اور شفیع اللہ شامل ہیں۔

اسی طرح جنرل نشست پر چترال سے منتخب ثریا بی بی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر اور شیرعلی آفریدی ڈیڈک پشاورکے چیئرمین ہیں، جس سے 35 میں سے 22 آزاد ارکان حکومتی ٹیم کا حصہ ہیں اور باقی صرف 13 ارکان بچتے ہیں جن کے اپوزیشن کی طرف جانے کے باوجود اپوزیشن حکومت نہیں بناپائے گی۔

اپوزیشن مذکورہ 13 اراکین کی معاونت کے باوجود اپوزیشن کی تعداد 73 نہیں بنتی بلکہ 65 ہوتی ہے اور اس تعداد کے ساتھ حکومت تشکیل نہیں دی جاسکتی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان علی امین گنڈاپور کی ا زاد ارکان ایوان میں حکومت کا شامل ہیں ارکان کی

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

کراچی:

امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کے تسلسل سے آبنائے ہرمز کی بندش، فی بیرل خام تیل کی عالمی قیمت 100ڈالر کی سطح پر آنے، امریکی فیڈرل ریزرو کے اگلے ہفتے کے اجلاس سے قبل سود کی بلند شرح کو تقویت ملنے سے عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی۔

کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 600روپے کی کمی سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے کی سطح پر آگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 944روپے کی کمی سے 3لاکھ 66ہزار 457روپے کی سطح پر آگئی۔

مزید پڑھیں

سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں 4 دن کے بعد قیمت کم ہو گئی

سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمتیں بڑھ گئیں

سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں  میں بڑا اضافہ

اسی طرح، عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 61سینٹس کی کمی سے 58ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی۔

کمی کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 61روپے کی کمی سے 6ہزار 309روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت 53روپے کی کمی سے 5ہزار 408روپے کی سطح پر آگئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن