کیا ملک میں ملاقاتوں کا مسئلہ ہی رہ گیا ہے، افنان اللہ خان
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما مسلم لیگ (ن) افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ یہ بات پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو سمجھنی چاہیے کہ عمران خان ایک قیدی ہیں ان پر سرارب روپے کی کرپشن کا الزام کورٹ میں ثابت ہو چکا ہے، اس کی بنیاد پر ان کو سزا مل چکی ہے، وہ بنی گالہ میں نہیں ہیں وہ سرینہ یا میریٹ میں نہیں ہیں کہ فون اٹھائیں اور کہیں کے روم سروس آ جائے، اس سے ملاقاتیں اسی طرح ہوں جو جیل مینوئل اجازت دیتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ منگل اور جمعرات کو ملاقات ہوتی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ میری ملاقاتیں ایسی ہوں کہ میں ہر وقت انسڑکشنز جاری کرتا رہوں یہ نہیں ہو سکتا،کیا اس ملک کے اندر ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے کہ ملاقات ہو۔
رہنما تحریک انصاف نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ عمران خان کی پراپرٹی یہاں ہے، باہر سے آنے والے پیسے جو اس نے بنی گالہ پر لگائے اس کا حساب بھی عمران خان سے لیتے ہیں جن کی پراپرٹیاں باہر ہیں وہ تو یہاں پھر رہے ہیں، عمران خان کے بیٹوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم تحریک کو لیڈ کریں گے اور نہ عمران خان نے ان کو کہا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ ہم خود آنا چاہتے ہیں، سسٹم عمران خان کو مائنس کرنا چاہتا ہے، عمران خان نہ کسی جاگیر دار کا بیٹا ہے نہ سرمایہ دار کا بیٹا ہے اشرافیہ کو قبول نہیں ہے، عمران خان کے پیچھے اس وجہ سے لگے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی اگر خان صاحب اتنے اعتماد سے کام کر رہے ہیں تو ان کے سامنے کوئی گیم پلان ضرور ہوگا، وہ گیم پلان سامنے آئے گا تو میں کوئی تبصرہ کر سکوں گا کہ آیا اس میں کیا کمزوری ہے اور کیا نہیں ہے، میں ہمیشہ یہ کہتا رہتا ہوں کہ تحریک انصاف کو اللہ نے بڑی مقبولیت دی ہے لیکن چونکہ ان کے پاس سیاسی حکمت عملی کی ہمیشہ کمی تھی ابتری کی کیفیت ہے توان کو اپنے کارڈز کو جس طرح پلان کرنا چاہیے تھا وہ اس میں ناکام رہے ہیں، خود عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت تحریک انصاف کو میسر رہی ہے، پچھلے تین سال کے احتجاجوں کا احاطہ کریں تو ناکام ہی رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.