اسلام آباد میں فیض آباد کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ، ایک پولیس اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں فیض آباد کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق سی آئی اے اسلام آباد پولیس کی ٹیم ڈاکوؤں کا پیچھا کررہی تھی کہ ڈاکوؤں نے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
ترجمان پولیس نے بتایاکہ اہلکاروں پر فیض آباد میٹرو اسٹیشن کے قریب پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سدھیر احمد عباسی جاں بحق اور اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس نے علاقے کو گھیر لیا اور سرچ آپریشن جاری ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 27 برس مکمل، یومِ تکبیر پر آج ملک بھر میں عام تعطیل
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔