فیض آباد کے قریب ڈکیتوں کی فائرنگ سے اسلام آباد پولیس کا اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت میں فیض آباد کے قریب ڈکیتوں کی فائرنگ سے اسلام آباد پولیس کا ایک اہلکار سدھیر احمد عباسی شہید ہوگیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ فیض آباد میٹرواسٹیشن کے پاس پیش آیا۔ جس میں مسلح ڈکیتوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سدھیر احمد موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ کنسٹیبل جعفر جہانگیر شدید زخمی ہوگیا ہے۔
سی آئی اے اسلام آباد پولیس کی ٹیم ڈکیتوں کی گرفتاری کے لئے پیچھا کررہی تھی، جس پر نامعلوم ملزمان نے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے ضلع بھر میں سرچ آپریشن جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔