سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے نواز شریف کے خلاف مبینہ الزام والی ویڈیو کو جعلی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
منگل کو ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں محمد زبیر نے کہا کہ ایک ویڈیو کلپ جھوٹ پر مبنی ہے جس میں مجھے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ کسی میٹنگ میں نواز شریف اور دیگر نے عمران خان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی اور ایڈیٹڈ ہے۔
There is a video clip circulating in social media in which I am shown to say that in some meeting Nawaz Sharif & others decided to God Forbid kill IK.
— Mohammad Zubair (@Real_MZubair) September 9, 2025
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی ایسا الزام عائد نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس بات کا سوچ سکتے ہیں۔ محمد زبیر نے کہا کہ نواز شریف کے لیے ان کے دل میں عزت و احترام ہے اور وہ ان پر کسی بھی قسم کا بے بنیاد الزام نہیں لگا سکتے۔
سیاسی حلقوں نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور پروپیگنڈے کے ذریعے سیاستدانوں کے بیانات کو مسخ کرنے کا رجحان خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔