سکول وینز اور رکشوں میں بچوں کو حد سے زیادہ بٹھانے پر سی ٹی او کا سخت ایکشن
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
سٹی42: لاہور میں اوور لوڈنگ کے خلاف سٹی ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن بھرپور طریقے سے جاری، چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے سکول وینز اور رکشوں میں حد سے زیادہ بچوں کو بٹھانے پر فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سی ٹی او نے تمام ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو حکم دیا ہے کہ اوور لوڈنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کی زندگیوں کو اوور لوڈنگ کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نےڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ کو معطل کر دیا
سی ٹی او کے مطابق ایجوکیشن ونگ تعلیمی اداروں کے باہر وین ڈرائیورز کو حفاظتی اقدامات سے متعلق آگاہی فراہم کر رہا ہے، جبکہ چھٹی کے اوقات میں اضافی نفری تعلیمی اداروں کے باہر تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو فوری روکا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گاڑیوں کی چھتوں یا پائیدانوں پر کھڑے ہو کر سفر کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے اقدامات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ سی ٹی او نے حکم دیا کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف نہ صرف کارروائی کی جائے بلکہ ڈرائیورز پر ایف آئی آر بھی درج کی جائے۔
جب انکم ٹیکس مسلط نہیں کر سکتے تو سپر ٹیکس کیسے مسلط کر سکتے ہیں، جج سپریم کورٹ
ڈاکٹر اطہر وحید نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، کیونکہ یہی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔