حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے خلاف نیپرا کا ایکشن: کروڑوں روپے جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔
میڈیاذرائع کے مطابق نیپرا کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر حیسکو پرکروڑوں روپےکاجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حیسکو 4 اپریل 2024 سے یومیہ ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرائے گی، نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کرنے پر حیسکو پرجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
نیپرا کا فیصلہ میں کہنا تھا کہ حیسکو کےخلاف شوکاز نوٹس کے بعد کارروائی کی گئی۔ اس سے قبل 12 ستمبر کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اضافی بجلی بلوں اور لوڈشیڈنگ پر 2 سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کےخلاف ایکشن لیتے ہوئے مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کردیا تھا۔
نیپرا نے فیصلے میں کہا تھا کہ اضافی بلنگ پر گیپکو کو20 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ گیپکو کو صارفین سے وصول کردہ اضافی رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جبکہ نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کرنے پر سیپکو پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے، سیپکو 4 اپریل 2024 سے اب تک یومیہ ایک لاکھ جرمانہ جمع کرائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا گیا ہے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔