بارشوں سے تباہی کے دوران بھارت کی پانی چھوڑنے کی دھمکی، منگلا اور تربیلا ڈیم پر الرٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 22 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)بھارت کی جانب سے چار لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کی ممکنہ دھمکی کے بعد منگلا ڈیم انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ جبکہ تربیلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافے کا امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ مساجد کے ذریعے عوام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اعلانات بھی کروا دیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق متعلقہ محکمے الرٹ ہیں اور ریسکیو ادارے، مقامی انتظامیہ اور واپڈا حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیم کے اطراف کے نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق اگر بھارت کی جانب سے پانی چھوڑا جاتا ہے تو منگلا کے آس پاس کے علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
تربیلا ڈیم میں بھی ممکنہ بڑے سیلابی ریلے کے پیش نظر انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈیم انتظامیہ کے مطابق پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب پہنچ چکی ہے اور کسی بھی وقت شدید ریلہ ڈیم میں داخل ہو سکتا ہے۔ترجمان کے مطابق اس وقت تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1530 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1550 فٹ ہے۔ پانی کی آمد 3 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے جبکہ اخراج 3 لاکھ 32 ہزار 600 کیوسک جاری ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر سیلابی ریلہ داخل ہوا تو پانی کا اخراج 4 لاکھ کیوسک تک بڑھا دیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیم کے 17 پیداواری یونٹس سے اس وقت 3500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جب کہ دریائے کابل سے 30 ہزار 900 کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔ڈیم انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمذاکرات کا وقت ختم ہوگیا، اب جو بھی ہوگا بانی ہدایات دیں گے، بیرسٹر گوہرکا اعلان مذاکرات کا وقت ختم ہوگیا، اب جو بھی ہوگا بانی ہدایات دیں گے، بیرسٹر گوہرکا اعلان سکردو میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، تمام سیاح اور مقامی افراد بحفاظت نکال لیے گئے پارلیمنٹ ہاوس کی چھتیں ٹپکنے لگیں، تارکول بھی کام نہ آیا، انتظامیہ کی بالٹیوں سے پانی روکنے کی کوشش شہر کو صاف رکھنے کا عزم،آئی سی سی نے شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا نومئی کیس: اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت 70 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا وفاقی دارالحکومت میں نمبر پلیٹس کا نیا ضابطہ، خلاف ورزی پر گاڑیاں بند کرنے کا حکم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انتظامیہ نے تربیلا ڈیم الرٹ جاری بھارت کی کے مطابق ڈیم میں پانی کی

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا