کوئٹہ؍ لاہور (نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان اسمبلی میں غیرت کے نام پر قتل واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی درخواست پر مشترکہ قرار داد میں تبدیل کیا گیا بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس حوالے سے ویمن پارلیمانی کاکس کی ڈپٹی سپیکر غزالہ گولہ نے مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے سنجدی ڈیگاری میں نہتے مرد و خواتین کا قتل قابل مذمت ہے اور غیرت کے نام پر قتل کا کسی بھی صورت صوبائی، قومی سماجی یا مذہبی روایت سے کوئی تعلق نہیں، غزالہ گولہ نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں مطالبہ کیا کہ قرارداد کو مشترکہ اور مارگٹ واقعے کی تحقیقات کیلئے حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تیشکل دی جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان واقعے کے حوالے سے قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ظالم اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے۔ ایک انٹرویو میں  انہوں نے کہا کہ  ملزمان کی معافی کا معاملہ تو اسی وقت ختم ہوگیا تھا جب حکومت کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔دوسری طرف  بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون کے قتل پر مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی۔ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر ایک نہتی خاتون کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں ، جرگے کی آڑ میں قتل کیے گئے افراد کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ قرار داد میں حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، ڈیگاری دہرے قتل کے معاملے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ایڈیشل آئی جی سید وزیر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے چیمبر میں پیش ہو گئے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس روزی خان بڑیچ نے سنجیدی ڈیگاری واقعے کا نوٹس لیا تھا اور گزشتہ روز انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو طلب کیا تھا۔ حکام نے کیس میں پیش رفت گرفتاریوں اور قبرکشائی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: غیرت کے نام پر

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ