برساتی نالے میں بہنے والی کار کا بمپر مل گیا، گاڑی اور باپ بیٹی تاحال لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جولائی 2025ء ) صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے پوش علاقہ ڈی ایچ اے کے برساتی نالے میں بہنے والی کار کا بمپر مل گیا۔ تفصیلات کے مطابق 64 سالہ ریٹائرڈ کرنل اپنی 25 سالہ بیٹی کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے نکلے اور اس دوران جب انہوں نے برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی تو سڑک پر پانی کا ریلہ گاڑی کو بہا کر لے گیا، بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے دونوں بات بیٹی بھی گاڑی کے ساتھ ہی پانی میں بہہ گئے، نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے افراد گاڑی سے مدد کے لیے لوگوں کو پکارتے رہے، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں کار سواروں کو مدد کے لیے ہاتھ ہلاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ڈی ایچ اے 5 میں برساتی ریلے میں بہنے والی اِس گاڑی میں ریٹائرڈ کرنل اپنی بیٹی کے ہمراہ جا رہےتھے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کار سوار مدد کےلئے ہاتھ ہلا رہے ہیں، اللہ اِنہیں محفوظ رکھے۔۔!! pic.
(جاری ہے)
بتایا جارہا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں تیز بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آچکے ہیں، اس دوران راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی پانی داخل ہوگیا اور ملحقہ دیہات بھی زیر آب آگئے، شدید بارش سے متاثر ہونے والے گاؤں میں باغ راجگان، کھڑکن، سوہاوہ شامل ہیں جب کہ اڈیالہ سرکل اور بسکٹ فیکٹری چوک پر بارش کے پانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں بہنے والی برساتی نالے نالے میں
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔