پنجاب میں پہلی بار بارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پنجاب میں پہلی بار بارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)پنجاب میں پہلی باربارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے، بروقت اور حقائق سے قریب ترین ڈیٹا کے لیے آٹومیٹک رین گیج کی تنصیب کی جائے گی۔سیکریٹری ہاوسنگ نورا الامین مینگل کے مطابق پنجاب میں پہلی باربارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے، اس حوالے سے واسا کی تمام ایجنسیوں کو آٹومیٹک رین گیج استعمال کرنے کے لیے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔
آٹومیٹک رین گیج اضلاع میں مناسب مقامات پر نصب کیے جائیں گے، مینوئل پیمانے سے ڈیٹا میں غلطی کا خدشہ اور زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، واسا کی ایجنسیاں7 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہیں۔سیکریٹری ہاوسنگ نورا الامین مینگل کے مطابق بارش کو ماپنے کے لیے مینوئل طریقہ رائج تھا جسے مکمل طور پر تبدیل کر رہے ہیں، وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو فیلڈ میں لایا جائے،نوجوان اینجینیئرز کو انٹرنشپ پر فیلڈ میں لائے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کے بیٹوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو گرفتاری ہو گی ، گورنر خیبرپختونخوا اگلی خبروفاق کی پالیسیوں کے باعث سندھ کی توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، شرجیل انعام میمن وفاق کی پالیسیوں کے باعث سندھ کی توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، شرجیل انعام میمن عمران خان کے بیٹوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو گرفتاری ہو گی ، گورنر خیبرپختونخوا مسلح جدوجہد کشمیریوں کا حق ہے، بھارت حرکتوں سے بازنہ آیا تو اسے مزید ہزیمت اٹھانا پڑیگی، وزیراعظم آزاد کشمیر ملک بھر میں مون سون کا نیا اسپیل داخل، ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری علی امین گنڈاپور کا مولانا فضل الرحمن کو اپنے بھائی سے الیکشن لڑنے کا چیلنج مون سون بارشیں، ملک بھر میں 49بچوں سمیت 104شہری جاں بحق، 413گھر تباہ ہوئے، این ڈی ایم اےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ پنجاب میں پہلی کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔