پی ٹی آئی ارکان کی نا اہلی کا ریفرنس: اپوزیشن کا آج مذاکراتی سیشن میں شرکت نہ کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 ارکان کی نااہلی ریفرنس کے معاملے پر آج ہونے والے مذاکراتی سیشن میں اپوزیشن نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ ہم آج مہمانوں کے ساتھ مصروف ہیں، ہم نے ارکان کی کوئی لسٹ نہیں بھیجی نہ ہی مذاکراتی کمیٹی پر کوئی مشاورت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے ساتھ مصروف ہوں ان کے جانے کے بعد اس معاملے کو دیکھیں گے۔
ریاستی ادارے حکومتیں گرانے اور چلانے کا کردارادا کر رہے ہیں: علی امین گنڈاپور
یاد رہے کہ 11 جولائی کو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اپوزیشن کے معطل ارکان کی نااہلی ریفرنس کے معاملے پر دونوں طرف سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ 28 جون کو پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقریر کے دوران احتجاج کرنے پر سپیکر ملک احمد خان نے اپوزیشن کے 26 ارکان کو معطل کر دیا تھا اور ان ارکان کی نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی ارکان کی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔