سابق پاکستانی فوجی افسر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے برطانیہ کی ہائیکورٹ میں گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور فوج کا ملک میں اغوا، تشدد یا صحافیوں کو دھمکانے جیسے کسی بھی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بیان انہوں نے پاکستانی فوج کے سابق میجر عادل راجہ کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کی سماعت کے دوسرے روز عدالت میں دیا۔ راشد نصیر کا مؤقف ہے کہ عادل راجہ نے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کیے، جن سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ ان کی زندگی اور خاندان کو بھی خطرات لاحق ہوئے۔

مقدمے کا دائرہ پاکستانی سیاست نہیں: عدالت

 میڈیا رپورٹ کے مطابق سماعت کے آغاز پر ڈپٹی ہائیکورٹ جج رچرڈ اسپیئر مین کے سی نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ پاکستان کی سیاسی صورتحال یا فوجی اداروں کے کردار سے متعلق نہیں، بلکہ یہ صرف بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی ذاتی ساکھ پر لگنے والے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیے فوج سیاسی جماعتوں سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، ترجمان پاک فوج

جج کے استفسار پر عادل راجہ کے وکیل نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس الزامات کے حق میں کوئی ’ثبوت یا حقائق پر مبنی دفاع‘ موجود نہیں، جس کے بعد عادل راجہ نے یہ دفاع واپس لے لیا۔ اب ان کی واحد دفاعی پوزیشن یہ ہے کہ ان کی اشاعتیں ’عوامی مفاد‘ میں تھیں۔

’آئی ایس آئی پرالزام لگانا فیشن بن چکا‘

عدالت میں بیان دیتے ہوئے راشد نصیر نے کہا:

’میں نے انٹیلیجنس سروس میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں، لیکن کبھی کسی کو اغواء یا ہراساں نہیں کیا۔ نہ ہی مجھے کبھی ایسے احکامات دیے گئے۔ آج کل پاکستان میں آئی ایس آئی پر الزام لگانا ایک فیشن بن چکا ہے، خاص طور پر ان افراد کی جانب سے جو کئی برسوں سے پاکستان نہیں گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا:

’میرا مقدمہ کسی کو خاموش کرانے کی کوشش نہیں، بلکہ یہ میری ذاتی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے متنازع یوٹیوبر عادل راجا کو دھچکا، برطانوی عدالت نے 10 ہزار پاؤنڈ جرمانہ کردیا

راشد نصیر نے بتایا کہ الزامات کے بعد ان کے برطانیہ میں مقیم قریبی رشتہ دار، بالخصوص بھتیجے اور بھانجی کو سیکورٹی خدشات لاحق ہوئے۔ ان کے مطابق:

خاندان کے بعض افراد، خاص طور پر پی ٹی آئی کے حمایتیوں نے ان الزامات کو درست سمجھا۔ برطانوی خفیہ اداروں میں ان کے پرانے رفقا، جن کے ساتھ وہ افغانستان اور یو اے ای میں انسداد دہشتگردی آپریشنز میں شریک رہے، ان کی ساکھ پر تشویش کا اظہار کرنے لگے۔ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی وجہ سے ایک شخص نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، جسے گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم نے کہا کہ وہ عادل راجہ کی ٹویٹس سے متاثر ہوا تھا۔

’جذباتی حالت میں الزامات لگائے‘، عادل راجہ کا اعتراف

عادل راجہ نے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہو کر کہا کہ انہوں نے الزامات صحافتی ذرائع اور اندرونی معلومات کی بنیاد پر لگائے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ہمدرد رہے ہیں۔ انہوں نے بریگیڈیئر راشد پر سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر سنگین الزامات عائد کیے۔ وہ بعض اوقات جذباتی ہو گئے تھے اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔ ان کی ویڈیوز کا مقصد بعض اوقات زیادہ ویوز حاصل کرنا اور خبریں وائرل کرنا بھی تھا۔

عادل راجہ نے کہا:

’میرے اثاثے ضبط ہوئے، میرے قریبی دوست ارشد شریف کو قتل کر دیا گیا، میرے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں مجھ سے بہترین اخلاق کی توقع نہ رکھی جائے۔‘

قانونی نکات اور الزامات کی نوعیت

مقدمہ 9 سوشل میڈیا اشاعتوں پر مشتمل ہے جن میں راشد نصیر کو صحافی ارشد شریف کے قتل، سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کی سازش، 2023 کے انتخابات میں دھاندلی جیسے سنگین الزامات کا نشانہ بنایا گیا، بغیر کسی دستاویزی یا ٹھوس ثبوت کے۔

راشد نصیر کے وکیل ڈیوڈ لیمر نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ عادل راجہ کی معلومات محدود تھیں کیونکہ وہ ایک میجر کے عہدے پر فوج سے سبکدوش ہوئے اور سینئر انٹیلیجنس سطح کی معلومات تک رسائی نہیں رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے ہتک عزت کیس: برطانوی عدالت نے عادل راجا پر مزید جرمانہ عائد کردیا

عدالت میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ عادل راجہ نے یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر جنرل باجوہ، عمران خان، جاوید چوہدری، اور عمران ریاض جیسے اہم شخصیات پر بھی بے بنیاد الزامات عائد کیے، جو زیادہ تر ذاتی رائے، قیاس آرائی اور مبالغہ آرائی پر مبنی تھے۔

قانونی ٹیمیں اور اگلی سماعت

بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی نمائندگی ڈیوڈ لیمر (Doughty Street Chambers)، عشرت سلطانہ اور سعدیہ قریشی (Stone White Solicitors) کر رہے ہیں۔

عادل راجہ کی نمائندگی سائمن ہارڈنگ (Gunnercooke LLP) کر رہے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت تیسرے روز کے لیے مقرر کر دی ہے، جس میں عادل راجہ پر جرح کا سلسلہ جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایس آئی برطانوی ہائیکورٹ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر میجر عادل راجہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایس ا ئی برطانوی ہائیکورٹ بریگیڈیئر ر راشد نصیر عدالت میں انہوں نے ئی ایس یہ بھی

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک