سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان پینل کوڈ ترمیمی بل زیرِ غور آیا۔

اجلاس میں سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ میں نے دیت میں چاندی کا متبادل سونے کو کرنے کا کہا تھا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں جس سے کسی کو نفع نقصان ہو، جو جیسا چل رہا ہے چلنے دیں۔

اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل سے سوال کیا کہ کیا دیت چاندی سے سونا ہو سکتی ہے؟

دیت میں سو اونٹ میں کمی زیادتی کا حکم

آپ کے مسائل اور اُن کا حلسوال: شریعت میں ایک آدمی.

..

چیئرمین اسلامی نظریاتی نے جواب دیا کہ دیت تبدیل ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے ترمیم کرنا پڑے گی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر چاندی سے سونے میں تبدیل ہو سکتا ہے تو اختلاف کہاں سے آئے گا؟

سینیٹر ضمیر گھومرو نے سوال کیا کہ سونے چاندی کی قیمت سے کتنا فرق آئے گا؟ اس کی تفصیلات منگوائیں۔

بیرسٹر عقیل نے تجویز پیش کی کہ اس پر صرف وزراتِ قانون نہیں وزراتِ داخلہ و ایف بی آر کو بھی بلائیں۔

چیئرمین کمیٹی نے بیرسٹر عقیل کو ہدایت کی کہ آپ اس پر وزارتِ قانون سے حتمی فیصلہ لے لیں، اس پر وزراتِ داخلہ سے بھی رائے لے لیتے ہیں۔

کمیٹی نے آئندہ اجلاس پر وزارتِ داخلہ اور ایف بی آر سے بل پر رائے طلب کر لی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کمیٹی نے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی