لاچین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 مئی2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان اعلیٰ اقدار، امن و انصاف کیلئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سہ فریقی اجلاس ہمیں یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، ہم امن کے خواہاں ہیں اور بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، بھارت پاکستان کا پانی روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو پائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آذری عوام کو یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آذری قوم نے بھرپور جدوجہد سے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو پی کے کے، کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، اس سے نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر بھی ترکیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان میں بھرپور استقبال اور میزبانی پر صدر الہام علیوف کا شکرگزار ہوں، آج کا اجلاس تین حقیقی دوست ممالک کے خلوص کا مظہر ہے، ہمارے دل خوشی سے لبریز ہیں، گذشتہ سال مئی میں آستانہ میں سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں باہمی مفاد کے شعبوں پر مفید بات چیت ہوئی تھی، آج ہم اس سہ فریقی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں جو ہمارے عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات میں جڑے ہیں اور دہائیوں پرانی مشترکہ اقدار رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، چاہے یہ کاراباخ، کشمیر اور شمالی ترکیہ قبرص کا مسئلہ ہو، ہماری یکجہتی اور باہمی احترام ہماری طاقت ہے، یہ قدرتی بات ہے کیونکہ ہمارے عوام اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور اس کا اظہار ترکیہ اور آذربائیجان کیلئے محبت سے ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حال ہی میں پاک۔بھارت کشیدگی کے دوران بھارت نام نہاد پہلگام واقعہ سے متعلق پاکستان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا بلکہ ہماری غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں، بیماریوں اور معاشی بحران سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، اس تناظر میں یہ تین مثالی ملک یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، ہم ہمدردی کی امید رکھتے ہیں اور تنازعات کو مسترد کرتے ہیں، ہم پرامید ہیں کہ صبر و تحمل اور دانشمندی سے امن و خوشحالی آئے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر متوقع اور غیر مستحکم دنیا میں سیاسی استحکام کی تعمیر، ہم آہنگی کا فروغ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نئی حقیقتوں کو جنم دے رہی ہیں، موجودہ صورتحال میں دو برادر ممالک ترکیہ اور آذربائیجان ہمارے ساتھ کھڑے ہیں جو خوش قسمتی کی بات ہے، ہم ان پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اعتماد کرتے ہیں، اتحاد، امن، انصاف اور اخلاقیات کیلئے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے آزمودہ تعلقات نہ صرف ہمارے اپنے عوام بلکہ خطے اور اس سے باہر امن و خوشحالی کیلئے مفید ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ سہ فریقی اجلاس ہم سب کیلئے بروقت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس سے ہمیں ضروری سیاسی عزم اور مختلف شعبوں میں اجتماعی اور کثیریت سے آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ پاک۔

بھارت تنازعہ سنگین تھا، بھارت نے پاکستان کے خلاف بلاجواز جارحیت کی اور پاکستان پر حملہ کیا، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے پاکستان عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا مظاہرہ کیا جو کہ قابل تعریف ہے اور اس پر میں، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام ان کے شکرگزار ہیں، ہم ہمیشہ ان دونوں ممالک کے شکرگزار رہیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مسلح افواج کی قیادت کی، وزیراعظم نے بہادری سے مقابلہ کیا اور اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، پوری پاکستانی قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، یہ بے خوف، نڈر اور آہنی عزم کا صبر و تحمل کے ساتھ اظہار تھا جس کے ذریعے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا گیا، اﷲ تعالیٰ کے فضل، پاکستانی عوام اور دوست ممالک کی حمایت سے ہم نے فتح حاصل کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اور ہمیشہ امن کے خواہاں رہیں گے، اس کیلئے مذاکرات ضروری ہیں اور فوری توجہ طلب تنازعات جیسا کہ مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل، پانی کا مسئلہ ہے، بدقسمتی سے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو اسلحہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، یہ پاکستانی عوام کیلئے زندگی کا معاملہ ہے، 24 کروڑ عوام اس پانی کو زراعت سمیت دیگر مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ بھارت ہمارے دریائوں میں بہنے والے پانی کو روکنے کی دھمکی دے رہا ہے، یہ کبھی بھی ممکن نہیں اور نہ ہی ہو گا، ہم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں کہ بھارت کبھی ایسا نہیں کر سکے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت مخلص ہو کر انسداد دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہے تو پاکستان بھارت سے اس معاملہ پر بھی بات چیت کیلئے تیار ہے، ہم دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی شہید ہوئے ہیں، 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے، اس لعنت کو شکست دینے کیلئے اس سے بڑے عزم کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی، پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت کے فروغ سمیت تمام ضروری مسائل پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ترکیہ اور آذربائیجان وزیراعظم نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس کھڑے ہیں کرتے ہیں کے ساتھ ہیں اور کے صدر

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ