پاکستان کو ایٹمی قوت بنے 27 سال مکمل، یوم تکبیر آج ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پاکستان کو ایٹمی قوت بنے 27 سال مکمل، یوم تکبیر آج ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے 27 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ’یوم تکبیر‘ ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 27 برس قبل چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا تھا، ان دھماکوں سے قبل اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو بیرونی دباؤ اور پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر کئی پیش کشیں بھی کی گئیں تھیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں آج کے دن پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے پوری قوم، پاکستان سے محبت کرنے والوں کو یوم تکبیر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں کیونکہ آج سے 27 برس قبل پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور مسلمان ممالک میں پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس بار پاکستان ‘یومِ تکبیر’ ایک اہم اور تاریخی موقع پر منارہا ہے جب بھارت کی مسلط کردہ بلاجواز جنگ میں، پاکستان اللہ تعالی کے فضل وکرم سے 6 سے 10 مئی کے معرکہء حق میں سرخرو اور فتح یاب ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فتح مبین سے سرشار قوم کے لیے یوم تکبیر کی مسرتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جس پر ہم رب ِعظیم کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیشہ پاکستانی قوم کو اپنے خصوصی کرم سے سرفراز فرمایا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ مئی 1998 میں پوکھران میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی، دفاع اور خودمختاری کے لئے چیلنج پیدا کردیا تھا، جس پر میرے قائد اور اُس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف نے پوری قوم کی امنگوں اور قومی مفادات کی ترجمانی کی، اقتصادی پابندیوں، دباﺅ، دھمکیوں اور لالچ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، 1998 میں بھارت کے پانچ کے مقابلے میں چھ دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی ملک اور جغرافیائی سرحدوں کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلی امین گنڈاپور کا اسلحے سے متعلق بیان کھلی بغاوت کے مترادف ہے، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی علی امین گنڈاپور کا اسلحے سے متعلق بیان کھلی بغاوت کے مترادف ہے، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی ملک میں 17ہزار سے زائد غیر قانونی این جی اوز ملکی حساس معاملات کیلئے خطرناک قرار پاکستان اور آذربائیجان کا اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند نظر آگیا، وقوف عرفہ 5جون کو ہوگا اڈیالہ جیل میں گرمی کی شکایت پر بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کیلئے روم کولر پہنچا دیے گئے آئی ایم ایف کی پاکستان میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں رہنے کی پیش گوئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کو ایٹمی یوم تکبیر
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔