یوم تکبیر پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس اور سروسز چیفس کی عوام کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
یوم تکبیر کے موقع پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کی جانب سے عوام کو مبارکباد پیش کی گئی۔
آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یوم تکبیر 1998 کے اُس عظیم لمحے کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان جوہری طاقت کے طور پر اُبھرا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن بحال کرنے اور اپنے دفاع کے حق کو منوایا، پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیت قومی امانت ہے، جو عوامی امنگوں کی عکاس ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یوم تکبیر ہمارے مؤثر اور کم از کم ڈیٹرنس کے نظریے کی توثیق کرتا ہے، قابلِ اعتبار کم از کم ڈیٹرنس کا نظریہ خطے میں امن اور تزویراتی استحکام کے قیام پر مبنی ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت خالصتاً دفاعی نوعیت کی اور امن کی ضامن ہے، مسلح افواج اُن قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہیں جن کی بدولت یہ سنگِ میل حاصل ہو۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔