مون سون: معمول سے زائد بارشوں، اربن فلڈنگ کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
مون سون 2025ء کی پیشگوئی کرتے ہوئے محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ وسطی، جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں اور ساتھ ہی سیلاب کا خطرہ بھی سر اٹھا رہا ہے، اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔
ڈی جی محکمۂ موسمیات مہر صاحبزاد خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ رواں سال مون سون کا سیزن روایتی طور پر 3 ماہ پر مشتمل ہو گا، مگر اس کا آغاز جلد اور اختتام تاخیر سے بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 جون سے 15 ستمبر کے درمیان سیلابی سیزن رہے گا، جس کے دوران شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور ملک کے وسطی و جنوبی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔
5 ڈگری پر پہنچا، 51 درجے محسوس ہوا
ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید گرم اور مرطوب موسم کی لپیٹ میں ہے۔
بالائی علاقوں میں شدید سیلابی صورتِ حال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے ڈی جی محکمۂ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدر آباد اور پشاور میں اربن فلڈنگ کے خطرات بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔
ڈی جی موسمیات مہر صاحبزاد خان کا کہنا ہے کہ اس برس برف کم پڑی اور جو برف گری وہ وقت سے پہلے پگھل گئی، جس کی وجہ سے درجۂ حرارت بلند اور سیلابی امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا ہے کہ گلگت بلتستان، شمالی خیبر پختون خوا اور شمالی علاقہ جات میں معمول سے کم بارشیں ہوں گی، مگر درجۂ حرارت یہاں بھی بلند رہنے کی توقع ہے۔
ڈی جی محکمۂ موسمیات نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر شہریوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: معمول سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔