وزیرِاعظم کی تاجک صدر امام علی رحمانوف سے ملاقات ،پاکستان امن چاہتا ہے، عالمی برادری کو بھارت کا محاسبہ کرنا چاہیے: شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
دوشنبے ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، عالمی برادری کو بھارت کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
یہ بات وزیرِاعظم شہباز شریف نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں تاجک صدر امام علی رحمانوف سے ملاقات کے دوران کہی ہے۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے پاک، بھارت کشیدگی اور جنوبی ایشیاء کی تازہ ترین صورتِ حال سے تاجک صدر کو آگاہ کیا۔اس موقع پر دو طرفہ تعاون، علاقائی اور عالمی صورتِ حال اور باہمی مفاد کے معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ہم آہنگی، استحکام، امن اور ترقی یقینی بنانے کیلیے قومی بیانیے کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کریں: فیلڈ مارشل
’’جنگ ‘‘ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے تاجک صدر امام علی رحمانوف سے گفتگو میں کہا کہ جولائی 2024ء کے دورۂ تاجکستان میں طرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھی گئی، وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ روابط کے فروغ کےلیے پرعزم ہیں۔سی پیک کو وسطی ایشیاء تک توسیع دینا چاہتے ہیں، پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت جنگی اقدام تھا، عالمی برادری غیر ذمے دارانہ رویئے پر بھارت سے جواب دہی کرے، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔ اپنی خود مختاری اور سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
" معاہدے ہو جاتے ہیں، سسٹم نہیں آتے" بھارتی ایئر چیف نے شکست کا اعتراف کرلیا؟
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تاجک صدر کی واٹر ڈپلومیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق عالمی کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
اس موقع پر تاجک صدر امام علی رحمانوف نے کہا کہ پاکستان ہمارا بااعتماد دوست ہے، خطے میں امن و استحکام کے حامی ہیں، امن و استحکام کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قائدانہ کردار قابلِ تعریف ہے۔تاجک صدر نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زراعت، صنعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ اہمیت کا حامل ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی لورا لائی اور کیچ میں کارروائیاں، 5 دہشتگرد ہلاک
اس سے قبل آج وزیرِاعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے پہنچے۔دوشنبے ایئر پورٹ پر تاجک وزیرِ اعظم اور تاجک نائب وزیرِ خارجہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پُرتپاک استقبال کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تاجک صدر امام علی رحمانوف اعظم شہباز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔