سوات اور ژوب میں مسلسل دوسرے روز زلزلے کے جھٹکے، جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
سوات اور گرد و نواح میں مسلسل دوسرے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 ریکارڈ کی گئی۔ تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
محکمہ زلزلہ پیما کے مطابق زلزلے کی گہرائی 97 کلومیٹر جبکہ مرکز ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں واقع تھا۔
مزید پڑھیں: سوات اور گردونواح میں زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 4.
اس سے قبل بلوچستان کے علاقے ژوب میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ زلزلے کی شدت 4.4 ریکٹر اسکیل پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ مرکز ژوب سے قریباً 60 کلومیٹر جنوب مشرق میں اور گہرائی 40 کلومیٹر زیر زمین تھی۔
ادھر محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں برس مون سون کا آغاز معمول سے ایک ماہ قبل متوقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں عمومی طور پر مون سون جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان زلزلہ زلزلے کے جھٹکے ژوب سوات محکمہ موسمیات مون سون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان زلزلہ زلزلے کے جھٹکے ژوب سوات محکمہ موسمیات زلزلے کے جھٹکے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔