کراچی:

قربانی کا جانور دیکھنے کے لیے آنے والا فوڈ ڈلیوری بوائے ڈکیتی کے  دوران مزاحمت پر قتل کردیا گیا، مقتول ایک بیٹی کا باپ تھا۔

پولیس کے مطابق عزیزآباد کے علاقے میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے فوڈ سپلائی کرنے والا ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔  افسوسناک واقعہ حسین آباد فوڈ اسٹریٹ کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کے دوران فائرنگ کر دی۔

مقتول کی شناخت 32 سالہ حارث ولد عبدالعزیز کے نام سے ہوئی ہے، جو حسین آباد کا رہائشی اور ایک کم سن بچی کا باپ تھا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق حارث آن لائن موٹرسائیکل کے ذریعے فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتا تھا اور روزانہ اپنے دوستوں کے ساتھ صبح کے وقت قربانی کے جانور دیکھنے جایا کرتا تھا۔

واقعے کے روز بھی وہ صفا مسجد کے قریب بندھی ہوئی گائے دیکھنے آیا تھا کہ اسی دوران ملزمان نے اسے موبائل فون چھیننے کی کوشش میں مزاحمت پر گولی مار دی۔

فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے حارث کو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا