قربانی کا جانور دیکھنے آیا فوڈ ڈلیوری بوائے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
کراچی:
قربانی کا جانور دیکھنے کے لیے آنے والا فوڈ ڈلیوری بوائے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کردیا گیا، مقتول ایک بیٹی کا باپ تھا۔
پولیس کے مطابق عزیزآباد کے علاقے میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے فوڈ سپلائی کرنے والا ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ افسوسناک واقعہ حسین آباد فوڈ اسٹریٹ کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کے دوران فائرنگ کر دی۔
مقتول کی شناخت 32 سالہ حارث ولد عبدالعزیز کے نام سے ہوئی ہے، جو حسین آباد کا رہائشی اور ایک کم سن بچی کا باپ تھا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حارث آن لائن موٹرسائیکل کے ذریعے فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتا تھا اور روزانہ اپنے دوستوں کے ساتھ صبح کے وقت قربانی کے جانور دیکھنے جایا کرتا تھا۔
واقعے کے روز بھی وہ صفا مسجد کے قریب بندھی ہوئی گائے دیکھنے آیا تھا کہ اسی دوران ملزمان نے اسے موبائل فون چھیننے کی کوشش میں مزاحمت پر گولی مار دی۔
فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے حارث کو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔