کراچی کی بندرگاہیں ملکی معیشت کا انجن ہیں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ کراچی کی بندرگاہیں ملکی معیشت کا انجن ہیں، انہیں جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
گورنر ہاؤس میں کامران ٹیسوری سے وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز جنید انور چوہدری نے ملاقات کی۔
ترجمان کے مطابق ملاقات میں بندرگاہ کے انفرا اسٹرکچر، شپنگ اور فشریز کی ترقی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت منصوبوں کی پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ یقین دلاتا ہوں ملک و قوم کے حالات بہت جلد بدلنے والے ہیں، پاکستان میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز جلد شروع ہوگا۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ میری ٹائم شعبے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔