پشاور ہائیکورٹ: پی پی رہنما ہمایوں خان کی 14 جون تک عبوری ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
سیشن کورٹ پشاور نے سیکریٹری اطلاعات پیپلز پارٹی ہمایوں خان کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
پشاور سیشن کورٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صمت اللّٰہ وزیر نے ہمایوں خان کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے ہمایوں خان کی 14 جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔
بعدازاں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ہمایوں خان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ عدالت نے 14 جون تک عبوری ضمانت دے دی ہے، صوبائی حکومت نے ہمارے پر امن احتجاج پرشیلنگ کی، مقدمات درج کیے، پی ٹی آئی خود ہر ہفتے احتجاج کرتی ہے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر پرچے کرنے سے پہلے یہ اپنے گریبان میں جھانکیں، کرپشن کے خلاف ہم نے پُر امن احتجاج کیا تو لاٹھی جارچ کیا گیا، پُر امن احتجاج پر شیلنگ کی مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے اب دوبارہ احتجاج کی کال دی ہے، پی ٹی آئی کے احتجاج سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔
ہمایوں خان نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجوں پر صوبے کے خزانے سے پیسےخرچ ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی نے لوگوں کو ٹرک کے بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہمایوں خان کی پی ٹی آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔