پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
سٹی 42: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کوئٹہ کا دورہ کیا ، چیف آٖف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا بھارت کی آبی دہشتگردی ناقابل قبول اور غیرقانونی ہے
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اسٹوڈنٹس ، افسروں اور فیکلٹی ارکان سے خطاب کیا،شہدائے "بنیان مرصوص" کو خراج عقیدت اور لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا ،
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا معرکۂ حق کی کامیابی قومی عزم اور یکجہتی کا ثبوت ہے،بھارت کی جارحیت پسندی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے،پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے،بھارت کی آبی دہشتگردی ناقابل قبول اور غیرقانونی ہے، مسئلہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل خطے کے امن کے لیے ضروری ہے،پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی بھارتی ریاست کر رہی ہے،دہشتگردی کے خلاف قومی جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے، مستقبل کی جنگ کے تقاضے جدید سوچ اور جدت کے طلبگار ہیں، آرمی چیف کی نوجوان افسران کو جذبے، تحقیق اور عزم سے قیادت کی تیاری کی ہدایت کی ، آرمی چیف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا
داعش کا مردہ زندہ ہو گیا، دو کارروائیوں کا دعویٰ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: آرمی چیف
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔